پنجاب حکومت نے لیپ ٹاپ اسکیم کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اسے پہلی مرتبہ صوبے کی نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ تک توسیع دینے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 10 ہزار لیپ ٹاپس اہل طلبہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔
ڈیپارٹمنٹ آف ہائر ایجوکیشن کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد پبلک اور پرائیویٹ جامعات کے طلبہ کے درمیان موجود تعلیمی اور ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا ہے، تاکہ ہر طالب علم کو جدید ٹیکنالوجی تک یکساں رسائی حاصل ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے اور جلد ہی لیپ ٹاپس کی تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے پہلے سے مقرر کردہ اہلیت کا معیار تبدیل نہیں کیا گیا۔ اسی اصول کے تحت وہی طلبہ اس مرحلے میں لیپ ٹاپ کے حق دار ہوں گے جو پنجاب کی کسی نجی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہوں، ان کے کم از کم 70 فیصد نمبر یا مساوی سی جی پی اے ہوں، اور اس سے قبل اس اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ حاصل نہ کر چکے ہوں۔
حکام کے مطابق اسکیم کا دائرہ کار بڑھانے سے نہ صرف تمام طلبہ کے لیے مساوی مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے میں ڈیجیٹل رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تعلیمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر طالب علم تک ٹیکنالوجی پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔
حکومت نے اس مرحلے میں خواتین، معذور افراد اور کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی کوٹہ بھی برقرار رکھا ہے، تاکہ سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں اور تعلیمی میدان میں اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم کی توسیع آئندہ برسوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے صوبے میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں اہم پیش رفت ہوگی۔