وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات بانی پی ٹی آئی اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا مشترکہ منصوبہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سازشوں کے بیج فیض حمید نے بوئے اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو خدانخواستہ ملک کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
ہفتہ کے روز سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آج بھی کچھ سازشی عناصر بانی پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں لانے اور پی ٹی آئی کے لیے راہیں ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم یہ تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیسے افراد کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا، ورنہ یہ طرز عمل ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی پوری قیادت کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتی رہی اور یہی وہ جماعت تھی جس نے طالبان کو دوبارہ پاکستان میں جگہ دی۔ انہوں نے کہا کہ آج یہی عناصر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، جو ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ان عناصر سے نجات دی اور ملک کو فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کا پروجیکٹ اب بتدریج بے نقاب ہو رہا ہے اور اس سارے عمل کے دوران سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی حالات سے باخبر تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان دنیا میں سر فخر سے بلند کر کے کھڑا ہے، جس کا سہرا پاک فوج کے کامیاب آپریشن معرکۂ حق کو جاتا ہے۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو ملک اندر سے ٹوٹ سکتا تھا۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ مغربی سرحد پر موجودہ صورتحال کے پیچھے بھارت کا کردار ہے اور جو لوگ ذاتی مفادات کے لیے ملک کو داؤ پر لگاتے ہیں انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا یہ عمل صرف فیض حمید تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تمام پاکستان دشمن عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو بانی پی ٹی آئی کے روپ میں ذاتی طور پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا، اور اس دورِ حکمرانی میں جو کچھ ہوا وہ ملک کی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی معاملات بیان نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ ان کے پاس بتانے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج نے پہلی بار احتساب کے عمل کے تحت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو سزا سنائی ہے، جبکہ جنرل فیض حمید پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید دراصل عمران خان پروجیکٹ کے انچارج بنے اور 2018 کے انتخابات میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا گیا، جس کے بعد وہ حکومت کا اہم جز بن گئے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں کیا کارکردگی دکھائی، جبکہ اس دور میں تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیض حمید ملک کے ساتھ ایک بھیانک کھیل کھیلتے رہے اور اگر فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو آج ملک کی صورتحال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس پورے عمل کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے بھی یہی دونوں شخصیات تھیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کئی مواقع ملے، تاہم 2019 میں بھارتی پائلٹ ابی نندن کی گرفتاری کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور صبح بھی نہ ہونے دی کہ بھارتی پائلٹ کو واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دور میں پارلیمنٹ کو عملاً آئی ایس آئی کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا تھا۔
وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ 9 مئی کے واقعات بانی پی ٹی آئی کے لیے برپا کیے گئے، جن کی منصوبہ بندی جنرل فیض حمید نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کی سازش میں کچھ عناصر اندر سے بھی شامل تھے، تاہم اصل قوت پی ٹی آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس دن افواجِ پاکستان اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی۔
خواجہ آصف کے مطابق لاہور میں بانی پی ٹی آئی کے پہلے جلسے کے انتظامات بھی نادیدہ ہاتھوں نے کیے، جبکہ ایک منظم سازش کے تحت نواز شریف کو من گھڑت الزامات میں نااہل قرار دے کر سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر نے کھل کر پاکستان کے خلاف غداری اور سازشیں کیں، اور اگر ایسے لوگوں کا کڑا احتساب نہ کیا گیا تو خدانخواستہ ملک کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔