وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ دعویٰ ان لوگوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو مسجدوں پر حملے کرواتے ہیں، سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ہیں، نہتے شہریوں، مارکیٹوں اور سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں اور معصوم بچوں کو خون سے نہلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ جن کا ذریعہ آمدن ہو، وہی اس قسم کے الزامات لگا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محسن کش لوگ اس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے پچاس سال سے انہیں پناہ گاہ فراہم کی۔ ایسے عناصر جو کمٹمنٹ کرتے ہیں اسے پورا نہیں کرتے بلکہ اربوں روپے کمٹمنٹ پوری کرنے کے لیے تاوان مانگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی مرکز کے نام پر طالبان رجیم کا خطرناک کھیل؟ چونکا دینے والے انکشافات
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں لکھا کہ پاکستان کی مٹی نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ ان کے لیے ایک سپر پاور سے بھی ٹکرا گئے اور تین نسلوں تک ان کی مہمان نوازی کی۔
یہ دعویٰ انکی طرف سے آرہا ھے جو مسجدوں پہ حملے کرواتے ھیں ۔ سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ھیں۔ نہتے شہریوں اور مارکیٹوں سکولوں کو نشانہ بناتے ھیں۔ معصوم بچوں کو خون سے نہلاتے ھیں۔ منشیات کی سمگلنگ جنکا ذریعہ آمدن ھو۔ محسن کش لوگ اس ریاست پہ حملہ آور ھیں جس نے پچاس سال سے انکو… https://t.co/twfeYrdopq
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 17, 2026

