اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا،، شرح سود 50 بیسز پوائنٹس کم کردی گئی ، مرکزی بینک کی طرف سے جاری مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد سود کی نئی شرح 10.50 فیصد مقرر ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے مئی میں شرح سود میں سو بیسز پوائنٹ کی کمی کی گئی تھی اس کے بعد سے شرح سود لگا تار گیارہ فیصد پر برقرار رہے تھی
📢 Monetary Policy Committee has decided to decrease the policy rate by 50 basis points to 10.5 percent w.e.f. December 16, 2025.#SBPMonetaryPolicy
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ چار مرتبہ سے شرح سود کو برقرار رکھا گیا تھا تاہم تاجروں کی طرف سے مسلسل کمی کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کے بعد شرح سود میں کمی کی گئی ۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی کے امکانات اس وقت خاصے محدود دکھائی دیتے ہیں، جس پر انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے ان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں مالیاتی پالیسی کو نرم کیے جانے کی توقع کم ہے اور شرحِ سود موجودہ سطح پر برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔
ماہرین کے نزدیک اس صورتحال کی ایک اہم وجہ عالمی بینک کی شرائط اور دباؤ ہے جو پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی سخت رکھی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت اور مرکزی بینک کے لیے فوری طور پر شرحِ سود میں کمی کرنا آسان نہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے معاشی استحکام اور مالی نظم و ضبط پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ کاروباری طبقہ اور صنعتی حلقے پالیسی ریٹ میں کمی کے خواہاں ہیں، تاہم موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے خدشات اور بیرونی مالی ذمہ داریوں کے باعث سٹیٹ بینک محتاط رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آئندہ مانیٹری پالیسی میں کسی بڑی نرمی کی امید کم ہی کی جا رہی ہے۔