بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلم خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا ایک اور افسوسناک مظاہرہ سامنے آیا ہے۔ بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب سرِعام کھینچ کر نہ صرف اس کی ذاتی آزادی پر حملہ کیا بلکہ ریاستی وقار اور آئینی اقدار کو بھی پامال کیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب بھارت کی وزارتِ آیوش کے زیرِ اہتمام آیوش ڈاکٹروں میں تقرر نامے تقسیم کیے جا رہے تھے تقریب میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر موجود تھے۔
اسی دوران جب مسلمان خاتون ڈاکٹر نصرت پروین اسٹیج پر آئیں وہ مکمل برقع اور نقاب میں ملبوس تھیں۔ تقرر نامہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ناگواری کے انداز میں سوال کیا کہ “یہ کیا ہے؟” اور فوراً ان کا نقاب کھینچ دیا۔
یہ بھی پڑھیں :مودی سرکار ہر شعبے میں رسوا و ناکام، بھارت خواتین کے لیے دنیا کا غیر محفوظ ترین ملک قرار
اس لمحے وہاں موجود نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چوہدری نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔یہ واقعہ محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ اس ذہنیت کی علامت ہے جو نریندر مودی کے دورِ حکومت میں فروغ پا رہی ہے، جہاں مذہبی شناخت کو نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے۔
ایک سرکاری تقریب جہاں پیشہ ورانہ کامیابی کو سراہا جانا چاہیے تھا وہاں ایک مسلمان خاتون کی عزتِ نفس کو مجروح کیا گیا، یہ عمل آئینِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی اور شخصی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
Just IN:— Indian Chief Minister Nitish Kumar forcibly pulls down the veil of a Muslim woman doctor while handing out appointment letter in a ceremony. pic.twitter.com/SCEeX6PCEc
— South Asia Index (@SouthAsiaIndex) December 15, 2025

