امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، آبنائے ہرمز کسی نہ کسی طریقے سے کھلی رہے گی۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں اور نازک جنگ بندی مزید مشکل کا شکار ہو چکی ہے۔
بھارت کے سرکاری دورے کے دوران جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آج قطر میں مذاکرات جاری تھے، دیکھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے یا نہیں، میرا خیال ہے کہ زیادہ وقت دستاویزات کے متن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا ہے، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’صدر نے اس کام کو انجام دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ یا تو ایک اچھا معاہدہ حاصل کریں گے یا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔‘
آبنائے ہرمز کے کھولے جانے پر زور دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کسی نہ کسی طریقے سے کھلی رہے گی۔
روس یوکرین کے معاملے پر بات کرتے امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ساتھ اس وقت کوئی فعال یا طے شدہ مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے آج منگل کے روز “فاکس نیوز” نیٹ ورک کو بتایا کہ ان حملوں کا مطلب گذشتہ ماہ طے پانے والے نازک سیزن فائر کا خاتمہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ تہران نے عالمی توانائی کی برآمدات کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھنے والی آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کو مفلوج کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ نے گذشتہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا شدید معاشی اور فوجی محاصرہ کر رکھا ہے۔