اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاک بھارت جنگ پر رپورٹ جاری کردی،بھارتی یکطرفہ اقدامات پر سخت اعتراضات

اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاک بھارت جنگ پر رپورٹ جاری کردی،بھارتی یکطرفہ اقدامات پر سخت اعتراضات

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھارت کے آپریشن سندور کو عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل کرے۔ رپورٹ میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سخت اعتراضات کیے گئے، پہلگام حملے کی مذمت کی گئی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کی تاکید کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حملے میں کسی قسم کی شمولیت کی تردید کی اور شفاف، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ 7 مئی 2025 کو بھارتی آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی حدود میں طاقت کے استعمال کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا گیا۔ بھارت نہ تو اس کارروائی کے لیے سیکورٹی کونسل کو پیشگی اطلاع دینے میں کامیاب ہوا اور نہ ہی پاکستان کی ریاستی شمولیت کے کوئی قابل اعتماد شواہد پیش کر سکا۔ اس دوران شہری علاقے، مساجد اور دیگر حساس مقامات متاثر ہوئے  جبکہ متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی تحقیقاتی رپورٹ نے بھارتی دفاعی برتری کے خود ساختہ بیانیے کا پردہ چاک کر دیا

خصوصی ماہرین نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت کا استعمال قانونی حق نہیں اور اگر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو تو یہ انسانی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کا یہ رویہ بڑے تصادم کے خطرات پیدا کر سکتا ہے اور اگر اسے مسلح حملہ تصور کیا جائے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ بھارت کے اقدامات پاکستان کی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت نے ثالثی کارروائیوں میں حصہ لینے سے گریز کیا اور سندھ طاس معاہدے کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کی۔ اقوام متحدہ نے بھارت سے وضاحت  ممکنہ تلافی، معذرت، معاہدے پر نیک نیتی سے عمل  اور انسانی نقصان روکنے کے لیے اقدامات پر باضابطہ جواب طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت کے دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

خصوصی ماہرین نے بھارت سے پوچھا کہ کیا وہ الزامات کے ثبوت فراہم کرے گا، انسانی زندگیوں کے نقصان کا ازالہ کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرے گا، اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کے لیے اقدامات کرے گا۔ رپورٹ میں ہدایت کی گئی ہے کہ بھارت کو ان تمام سوالات کے جوابات 60 دن کے اندر دینا ہوں گے  اور بھارت کے جوابات ویب سائٹ پر شائع ہونے کے ساتھ ہی ہیومن رائٹس کونسل میں بھی پیش کیے جائیں گے۔

editor

Related Articles