بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی سیاسی کارکن عثمان ہادی کی قاتلانہ حملے میں شہادت کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ شاہ باغ کے علاقے میں واقع ہادی اسکوائر میں مظاہرین کی جانب سے شدید احتجاج جاری ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر اپنا غم و غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔
عثمان ہادی کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے، جس کے باعث احتجاج کے دوران ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے نریندر مودی کے خلاف سخت نعرے لگاتے ہوئے انہیں ’’گجرات کا قصاب‘‘ قرار دیا۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ نریندر مودی انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ہے۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ عثمان ہادی نے ایک جدوجہد کی اور انقلاب کلچرل سنٹر قائم کیا، جسے وہ ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ مظاہرین کے مطابق اس انقلاب کلچرل سنٹر نے نریندر مودی کے لیے شدید پریشانی پیدا کی ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نریندر مودی اسی آگ میں جلے جس کا وہ ذکر کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مزید سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ شیخ مجیب کے گھر کو انقلاب کلچرل سنٹر میں تبدیل کر دیں گے۔ مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ شیخ مجیب کے گھر کی ایک اینٹ بھی نہیں بچے گی۔
عثمان ہادی کی شہادت پر ہونے والے اس احتجاج میں جذبات انتہائی شدید دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ مودی مخالف نعروں اور بیانات نے فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ ہادی اسکوائر اور شاہ باغ کے اطراف صورتحال بدستور تناؤ کا شکار ہے اور احتجاج ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔