وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ہونے والی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس پر ردعمل دیتے اپنے ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں بانی پی ٹی آئی اور اس کی ٹیم نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزا آئین و قانون کے مطابق سنائی گئی ہے، پی ٹی آئی کے دور میں انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔
توشہ خانہ ٹو واضح کیس تھا، اس میں سزا ہونی ہی تھی ، وزیرمملکت طلال چوہدری
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو بہت واضح کیس تھا، اس میں سزا ہونی ہی تھی، ان کے پاس صفائی موجود نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے توشہ خانہ ون میں نہ ڈنر سیٹ چھوڑا نہ فون سیٹ، یہ ہار تو دنیا بھر کا نایاب اربوں روپے کا ہار تھا، اس کی غلط قیمت لگوائی، توشہ خانہ حکمران کے پاس امانت کے طور پر ہوتا ہے، اس میں خیانت کی گئی، چند روپے دے کر اربوں روپے کا ہار اپنے پاس رکھا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف آج کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق آیا، بیرسٹرعقیل ملک
قبل ازیں زیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف آج کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق آیا ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی نے بلگری جیولری سیٹ کی کم قیمت لگوائی۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 17،17 سال سزا سنائی گئی ۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی، جبکہ ان دونوں کو ایک کروڑ 64 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔