توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد

توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد

حکومتی پراسیکیوشن اور تفتیشی اداروں نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)  کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو توشہ خانہ سے متعلق مقدمات میں بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ توشہ خانہ ون اور توشہ خانہ ٹو 2 الگ الگ معاملات ہیں، جن میں مختلف حقائق، شواہد اور جرائم شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17سال قید، 1کروڑ روپے جرمانے کی سزا

حکومتی است توشہ خانہ ٹو کیس خاص طور پر مئی 2021 میں سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران ملنے والے ایک بلغاری زیورات کے سیٹ سے متعلق ہے اور یہ پہلے توشہ خانہ ون کیس کا تسلسل یا تکرار نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ڈبل جیپرڈی‘ کا اصول اس لیے لاگو نہیں ہوتا کیونکہ دونوں مقدمات مختلف لین دین اور قانونی خلاف ورزیوں پر مبنی ہیں۔

توشہ خانہ ٹو کیس کیا ہے؟

توشہ خانہ ٹو کیس میں الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے تقریباً 71.5 ملین روپے مالیت کا بلغاری زیورات کا سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا، حالانکہ قواعد برائے قبولیت و تصرفِ تحائف توشہ خانہ 2018 کے تحت ایسا کرنا قانونی طور پر لازم تھا۔ استغاثہ کے مطابق توشہ خانہ رجسٹر میں بغیر زیورات جمع کرائے غلط اندراج کیا گیا۔

مزید یہ الزام بھی ہے کہ نجی ایپریزر کی ملی بھگت سے زیورات کی قیمت جان بوجھ کر 5.859 ملین روپے لگائی گئی، جس سے قومی خزانے کو 32.8 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ ملزمان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ خیانت اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شواہد اور گواہان پر پی ٹی آئی کے اعتراضات کا جواب سامنے آگیا

تفتیشی حکام کے مطابق کیس کا انحصار کسی ایک گواہ پر نہیں کیا گیا بلکہ دستاویزی اور زبانی شواہد کی کئی طریقوں سے تحقیق کی گئی ہے۔ ان میں سرکاری توشہ خانہ ریکارڈ، طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر گواہان کے بیانات، پاکستان کسٹمز کے سرکاری ایپریزرز کی شہادت اور باہمی قانونی معاونت کے ذریعے بلغاری اٹلی کی جانب سے اصل قیمت کی تصدیق شامل ہے۔

مزید پڑھیں:ڈان گروپ کو 13 ماہ میں 86 کروڑ کے سرکاری اشتہارات جاری ہوئے جو ریکارڈ پر ہیں، وزیر اطلاعات

پی ٹی آئی کی جانب سے ایک ہی نوعیت کے گواہان پر اعتراض کے جواب میں حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ متعلقہ عرصے میں توشہ خانہ میں وہی افسران تعینات تھے، اس لیے انہی افراد کا بطور گواہ پیش ہونا ناگزیر ہے۔

بشریٰ بی بی کو شریک ملزم اس بنیاد پر بنایا گیا ہے کہ وہ بلغاری زیورات کی براہِ راست وصول کنندہ تھیں۔ قواعد کے مطابق تحفہ وصول کرنے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرائے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ مل کر تحفہ جمع نہ کرا کے اور کم قیمت لگوا کر اسے ذاتی استعمال میں رکھا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

غیرمنصفانہ ٹرائل اور مقدمے کی رفتار تیز کرنے کے الزامات مسترد

پاکستان تحریک انصاف  کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کو منصفانہ ٹرائل اور وکلا تک رسائی نہیں دی گئی۔ حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملزمان کے پاس الگ الگ قانونی ٹیمیں تھیں اور وکلا سے ملاقاتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

حکام نے مقدمے کو ’تیز رفتار ٹرائل‘ قرار دینے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سماعت نومبر 2024 میں شروع ہوئی اور 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے، جبکہ دفاع کی جانب سے متعدد بار التوا بھی لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ مدت کسی طور ’جلد نمٹائے گئے ٹرائل‘ کے زمرے میں نہیں آتی اور آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت تمام تقاضے پورے کیے گئے۔

کیا توشہ خانہ قانون میں عمران خان کے لیے ترمیم کی گئی؟

استغاثہ نے واضح کیا کہ توشہ خانہ ٹو کیس 2018 کے قواعد کے تحت چلایا جا رہا ہے، نہ کہ توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2023 کے تحت  چلایا گیا، ان کا کہنا ہے کہ قوانین کو ماضی پر لاگو کر کے عمران خان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے۔

2023 کا قانون بعد ازاں نظام میں اصلاحات کے لیے متعارف کرایا گیا، جس کے تحت تحائف 30 دن کے اندر جمع کرانا، ایف بی آر کی شمولیت سے آزادانہ ویلیوایشن، قیمتی تحائف کی نیلامی یا نمائش، اور آڈیٹر جنرل کی سالانہ آڈٹ کو لازمی قرار دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ٹو ایک الگ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا مقدمہ ہے اور سیاسی انتقام کا بیانیہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی بدستور اس مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دے رہی ہے، جس کے باعث توشہ خانہ کا معاملہ قومی سیاست میں بدستور مرکزی حیثیت رکھے ہوئے ہے۔

Related Articles