وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے مثبت اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور پاکستان نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن پر بھی برتری حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مؤقف اور قربانیوں کو اب عالمی برادری تسلیم کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی برآمد کی جا رہی ہے اور یہ ایک سنگین حقیقت ہے جسے دنیا اب سمجھنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی قربانیوں اور کامیابیوں کے ذریعے پوری قوم کو فتح کا اعتماد دیا ہے۔ ان کے مطابق سویلین حکومت اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں اور دونوں مل کر ملک کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان تعاون میں اس نوعیت کی مثبت تبدیلی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگایا جاتا تھا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور دنیا پاکستان کے کردار کو سراہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، جو ملک کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ خارجہ پالیسی اور داخلی ہم آہنگی کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔