لاہورالیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں ساڑھے چھ ارب روپے کی مالیاتی بے ضابطگیوں کا اسکینڈل منظرعام پر آگیا ۔
تفصیلات کے مطابق لیسکو میں بجلی کے میٹروں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن ونگ نے انکوائری کا آغاز کردیا ہے ۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محمد امان اللہ خان اس تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں ، جاری نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ لیسکو کے بعض اعلیٰ افسران نے غیر قانونی طریقے سے اے ایم ایسوسی ایٹس کو میٹروں کی فراہمی کا کنٹریکٹ دیا، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے ۔
ایف آئی اے نے ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) یا اسمارٹ میٹرز کے ٹھیکوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) سے تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ایف آئی اے لاہور زون کے ڈائریکٹر آفس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سرکاری مراسلے کے مطابق یہ انکوائری ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں انکوائری نمبر 287/2025 کے تحت درج کی گئی ہے، جس میں پری کوالیفکیشن، ٹینڈر میں شرکت اور ’اے ایم آئی ‘ یا اسمارٹ میٹرنگ کے کاموں کی الاٹمنٹ کے دوران مبینہ فراڈ، غلط بیانی، سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو مالی نقصان کے الزامات شامل ہیں۔
CamScanner-12-26-2025-17.09-2 by Iqbal Anjum
ایف آئی اے نے لیسکو کے جنرل منیجر (ٹیکنیکل) سے 3 کمپنیوں، ’ ورلڈ اوور انجینئرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘، ’ ووسکو میٹرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ اور اے ایم ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ سے متعلق مکمل، اصل اور تصدیق شدہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
طلب کیے گئے ریکارڈ میں ان کمپنیوں کے مکمل پری کوالیفکیشن ڈوزیئرز، لیسکو کی جانب سے کی گئی آخری 5 پری کوالیفکیشنز کا مکمل ریکارڈ اور اگست 2025 میں منعقدہ پری کوالیفکیشن کمیٹی کے اجلاسوں کے منٹس شامل ہیں۔
تحقیقاتی ادارے نے اے ایم ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو مخصوص کیٹیگریز میں پری کوالیفائی کیے جانے سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں، جن میں فائل نوٹنگز، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور کمپنی کے نام یا حیثیت میں تبدیلی سے متعلق ریکارڈ شامل ہے۔
اس کے علاوہ ستمبر 2025 میں ورلڈ اوور انجینئرنگ اور ووسکو میٹرنگ کو لیسکو کی پری کوالیفائیڈ فہرست سے ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے لیسکو اور مذکورہ کمپنیوں کے درمیان ہونے والی تمام خط و کتابت، نیز سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ ہونے والے مراسلات بھی طلب کیے ہیں، خاص طور پر ان معاملات میں جو انضمام، ضم ہونے، نام کی تبدیلی، پری کوالیفکیشن کے تسلسل یا اہلیت کی منتقلی سے متعلق ہوں۔
تحقیقاتی ادارے نے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ کن دستاویزات کی بنیاد پر لیسکو نے کسی انضمام کو محض کاروباری نام کی تبدیلی قرار دیا ہے۔
مراسلے کے مطابق، آخری 5 اے ایم آئی یا اسمارٹ میٹرنگ منصوبوں کی مکمل ٹینڈر فائلیں بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن میں ٹینڈر نمبر 4212، بولی کے کاغذات، تمام کمپنیوں کی بولیاں، بولی کھولنے کے منٹس، جانچ رپورٹس، تقابلی بیانات اور تکنیکی و مالی جائزے شامل ہیں۔
ہر ٹینڈر کے تمام مراحل کو زمانی ترتیب میں بیان کرنے پر مشتمل ایک صفحے کی بریف، پری بڈ میٹنگز کے منٹس اور اہلیت کے معیار میں کی گئی ترامیم بھی طلب کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے نے ایوارڈ لیٹرز، معاہدوں، ورک آرڈرز، بینک گارنٹیز، ادائیگیوں کے ریکارڈ، اور 7 اپریل 2025 کے بعد ان کمپنیوں کے حق میں کی گئی تمام مالی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔
اس کے علاوہ جانچ رپورٹس، فیکٹری آڈٹس، کارکردگی سرٹیفکیٹس اور دیگر ڈسکوز کے ساتھ کی گئی خط و کتابت بھی طلب کی گئی ہے۔
ایف آئی اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام مطلوبہ اور تصدیق شدہ ریکارڈ 31 دسمبر 2025 کو ایک ایسے افسر کے ذریعے پیش کیا جائے جو کم از کم بی پی ایس 17 کا ہو اور معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہو۔