ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے اغوا کے بعد قتل کے کیس میں پولیس کو مزید اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے واقعے میں ملوث دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد اس سنگین مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان میں ہلاک ملزم شمریز کا بیٹا حسنین اور ایک اور ملزم فیصل شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فیصل نے مرکزی ملزم عادل کے ساتھ مل کر گڑھا کھودا اور ڈاکٹر وردہ کی لاش کو دفنایا تھا۔ گرفتار دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملزم عادل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا، جس میں اس نے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ ملزم عادل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم شمریز نے اسے گڑھا کھودنے کا کہا تھا، جس پر اس نے فیصل نامی شخص کے ساتھ مل کر گڑھا کھودا اور ڈاکٹر وردہ کی لاش کو دفن کیا۔
ملزم عادل کے بیان کے مطابق ڈاکٹر وردہ کے قتل کی منصوبہ بندی شازمان کالونی میں واقع ایک گھر میں کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں اب تک مجموعی طور پر 7 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک ملزم شمریز پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔
پولیس تفتیش کے مطابق مقتولہ ڈاکٹر وردہ نے 2023 سے اپنی ایک سہیلی کے پاس تقریباً 67 تولے سونا رکھوایا ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سونا واپس کرنے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ساتھ لے جایا گیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ مقتولہ ڈاکٹر وردہ کو ان کی سہیلی رِدا جدون اسپتال سے ساتھ لے گئی تھیں، جس کے بعد انہیں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر ڈاکٹر وردہ کی لاش برآمد کی اور مقدمے کی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کیا، جو تاحال جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔