خیبر پختونخوا حکومت نے کم پڑھے لکھے اور بے روزگار افراد کے لیے بڑی خوشخبری سنا دی ہے، صوبے کے 28 اضلاع میں سرکاری اسکولوں کے لیے ہزاروں چوکیداروں کی بھرتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق مجموعی طور پر 2 ہزار 800 خالی اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق اسکولوں میں عرصہ دراز سے خالی چوکیداروں کی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے، بھرتیوں کا عمل شفاف طریقے سے اشتہار، مقابلے اور مکمل میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی اقربا پروری یا سفارش کی گنجائش نہ رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع مانسہرہ میں سب سے زیادہ 377 آسامیاں مختص کی گئی ہیں، جبکہ بنوں کے لیے 263، مردان کے لیے 256، پشاور کے لیے 162، لکی مروت کے لیے 160 اور ایبٹ آباد کے لیے 154 آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ دیگر اضلاع میں بھی آبادی اور تعلیمی اداروں کی تعداد کے مطابق چوکیداروں کی تعیناتی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان بھرتیوں کا مقصد اسکولوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو محفوظ بنانا ہے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں چوکیداروں کی کمی کے باعث درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق جلد ہی بھرتیوں کے اشتہارات جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد امیدوار مقررہ طریقہ کار کے تحت درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے گا بلکہ صوبے میں بے روزگاری کی شرح کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔