مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے سال 2025 کے دوران کی گئی اپنی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک کے اہم صنعتی اور تجارتی شعبوں میں مناپلی، کارٹلائزیشن اور غیر منصفانہ کاروباری طریقوں کے خلاف سخت اقدامات کی تفصیل شامل ہے۔
کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سال 2025 کے دوران چینی، اسٹیل، پولٹری، کھاد، تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد شعبوں میں قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھانے اور گٹھ جوڑ کے الزامات پر کارروائیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نہ صرف نئے جرمانے عائد کیے گئے بلکہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں کے تحت واجب الادا جرمانوں کی وصولی بھی عمل میں لائی گئی۔
چینی کے شعبے میں مسابقتی کمیشن نے گنے کی قیمتیں فکس کرنے اور گٹھ جوڑ کرنے کے الزام میں 10 شوگر ملز کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ شوگر انڈسٹری میں مسابقت کو محدود کرنے کے اقدامات نے کسانوں اور صارفین دونوں کو نقصان پہنچایا۔
اسٹیل کے شعبے میں کارٹل بنانے پر دو بڑی اسٹیل ملز پر ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جسے رپورٹ میں سال 2025 کی بڑی کارروائیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اسٹیل کی قیمتوں میں غیر فطری اضافے کے شواہد سامنے آنے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
تعلیمی شعبے میں بھی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کیے گئے۔ مختلف اسکول سسٹمز کو مہنگی کاپیوں اور یونیفارمز کی مشروط فروخت پر نوٹس دیے گئے، جہاں والدین کو مخصوص دکانوں سے اشیا خریدنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔
پولٹری سیکٹر میں 8 ہیچریز پر کارٹلائزیشن کے الزامات ثابت ہونے پر 15 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ سے صارفین براہ راست متاثر ہوئے۔
کھاد کے شعبے میں بھی سخت کارروائی کرتے ہوئے کھاد ساز کمپنیوں پر کارٹلائزیشن کے تحت 37 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ کے ذریعے اضافہ کسانوں کے لیے سنگین مسائل کا باعث بنا۔
اس کے علاوہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے خلاف آٹا مہنگا کرنے کے کیس میں ساڑھے 3 کروڑ روپے جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا، جسے کمیشن نے صارفین کے مفاد کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی منصفانہ مسابقت کے فروغ اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور کسی بھی شعبے کو مناپلی یا کارٹلائزیشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔