بائیو میٹرک ویری فکیشن سسٹم کے ذریعے جعلی سموں اور بینک فراڈ کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا

بائیو میٹرک ویری فکیشن سسٹم کے ذریعے جعلی سموں اور بینک فراڈ کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا

بائیو میٹرک ویری فکیشن سسٹم کے غلط اور غیر قانونی استعمال کے ذریعے جعلی سموں کے اجرا اور بینک اکاؤنٹس سے فراڈ کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے ڈپلیکیٹ سم ایکٹیویشن میں ملوث گینگ کو گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:نئے سال کی آمد: فراڈ سے بچائو کیلئے سائبر کرائم انویسٹی گیشن کا اہم الرٹ جاری

این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار گینگ غیر قانونی طریقوں سے ڈپلیکیٹ سمز حاصل کر کے متعدد شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم منتقل کرتا رہا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان بائیو میٹرک ویری فکیشن کے نادرا لنک ایم بی وی ایس سسٹم کو غلط طریقے سے استعمال کر کے شہریوں کے نام پر جعلی سمیں جاری کرتے تھے۔

ایجنسی کے اعلامیے کے مطابق گرفتار ملزمان میں عثمان، نیئر اور ریاض شامل ہیں، جو منظم انداز میں یہ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ ڈپلیکیٹ سم کے اجرا کے بعد متاثرہ افراد کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے رقوم ٹرانسفر کی جاتی تھیں، جس کے باعث کئی شہری اپنے قیمتی سرمائے سے محروم ہو گئے۔

این سی سی آئی اے نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے سم ایکٹیویشن ڈیوائسز، مشتبہ ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر شواہد بھی تحویل میں لے لیے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کیس کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں اور مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فراڈ سے بچاؤ کے لیے بینکوں کو اپنے سسٹمز کو جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق بینک عموماً مقامی سطح پر تیار کردہ سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، جو جدید سائبر حملوں کے سامنے کمزور ثابت ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں جعلی ای چالان میسیجز کے ذریعے فراڈ، سیف سٹی نے شہریوں کو خبردار کردیا

سائبر ایکسپرٹس نے تجویز دی ہے کہ بینکوں کے ڈیٹا سینٹرز کو گوگل یا مائیکروسافٹ لیول کے عالمی معیار کے سافٹ ویئرز کے ذریعے محفوظ بنایا جانا چاہیے تاکہ صارفین کے ڈیٹا اور رقوم کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

دوسری جانب بینک فراڈ سے متاثرہ شہریوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی یا مشتبہ کال کی صورت میں اپنا ذاتی ڈیٹا، بائیو میٹرک معلومات یا او ٹی پی کسی سے شیئر نہ کریں، کیونکہ معمولی سی غفلت بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

Related Articles