بلغاریہ میں 20ویں صدی میں پیدا ہونے والی مشہور نابینا نجومی بابا وانگا کو دنیا بھر میں ان کی مبینہ درست پیش گوئیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جنگوں، قدرتی آفات اور عالمی سیاسی تبدیلیوں سے متعلق کئی ایسی باتیں کہیں جو بعد میں کسی نہ کسی صورت میں درست ثابت ہوئیں۔
اسی وجہ سے آج بھی ان کے بارے میں دلچسپی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے اگرچہ بابا وانگا کی زیادہ تر پیش گوئیاں تباہی، جنگ اور عالمی بحرانوں سے جوڑی جاتی ہیں تاہم ان کی ایک کم معروف پیش گوئی جدید دور میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور وہ ہے موبائل فون اور چھوٹے الیکٹرانک آلات کے بارے میں ان کا تصور
بابا وانگا نے موبائل فونز کے بارے میں کیا کہا؟
میڈیا رپورٹس اور ان سے منسوب تحریروں کے مطابق بابا وانگا نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل میں انسان چھوٹے الیکٹرانک آلات پر غیرمعمولی حد تک انحصار کرنے لگے گا، یہ آلات روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی عادات، رویوں اور سماجی تعلقات کو بھی بدل دیں گے۔
بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب یہ ڈیوائسز انسان کی توجہ اور ارتکاز کی صلاحیت کو کمزور کر دیں گی، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور دیگر نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوگا۔
بابا وانگا نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹیکنالوجی انسان کو سہولت تو دے گی مگر اس کے بدلے میں حقیقی رشتوں اور سماجی تعلقات کمزور پڑ جائیں گے،انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جیسے جیسے ان چھوٹے آلات پر انحصار بڑھے گا، انسان آہستہ آہستہ اپنے اردگرد موجود حقیقی دنیا سے دور ہوتا چلا جائے گا، جس کے اثرات عالمی سطح پر انسانی ذہنی صحت پر پڑیں گے۔
کیا یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی؟
اگر موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس پیش گوئی میں بڑی حد تک سچائی نظر آتی ہےاسمارٹ فونز نے جہاں زندگی کو تیز، آسان اور معلومات سے بھرپور بنایا ہے، وہیں اس کے منفی اثرات بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔
آج موبائل فون کی لت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، خاص طور پر بچوں اور نوعمر افراد میں، ماہرین نفسیات کے مطابق اسکرین ٹائم میں بے تحاشا اضافے سے نیند کی کمی، توجہ کی کمزوری، سماجی تنہائی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں،یوں کہا جا سکتا ہے کہ بابا وانگا کی یہ پیش گوئی آج کے ڈیجیٹل دور میں بڑی حد تک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، ٹیکنالوجی انسان کی خادم ہے یا آقا، یہ فیصلہ اب خود انسان کے ہاتھ میں ہے۔