200 روپے والے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی، 7 لاکھ 50 ہزار روپے انعام جیتنے والا خوش نصیب

200 روپے والے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی، 7 لاکھ 50 ہزار روپے انعام جیتنے والا خوش نصیب

قومی بچت مرکز (نیشنل سیونگز) نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے مقبول ترین 200 روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی 106 ویں قرعہ اندازی کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والی اس قرعہ اندازی میں کروڑوں روپے کے نقد انعامات جیتنے والے خوش نصیب فاتحین کے نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔

قومی بچت مرکز کراچی کے حکام کے مطابق، پیر کے روز ہونے والی اس قرعہ اندازی میں پہلے انعام کے لیے بانڈ نمبر 581381 کا قرعہ نکلا ہے۔ اس نمبر کا حامل خوش نصیب مجموعی طور پر 7 لاکھ 50 ہزار (ساڑھے 7 لاکھ) روپے کے بڑے نقد انعام کا حق دار قرار پایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:40 ہزار روپے کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی، 8 کروڑ روپے کا پہلا انعام جاری

دوسرے انعام کی قرعہ اندازی میں مجموعی طور پر خوش نصیبوں کا اعلان کیا گیا، جن میں سے ہر ایک فاتح کو 2 لاکھ 50 ہزار (ڈھائی لاکھ) روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔

دوسرے انعام کے لیے کامیاب ہونے والے 5 بانڈز کے نمبرز درج ذیل ہیں، 070148، ،194865، 222052، 412303، 710633۔

علاوہ ازیں 200 روپے مالیت کے بانڈز کی اس قرعہ اندازی میں تیسرے انعام کے لیے مجموعی طور پر 1696 خوش نصیبوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں سے ہر ایک فاتح کو فی کس 1250 روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔

پاکستان میں 200 روپے کا پرائز بانڈ مڈل کلاس (متوسط طبقے) اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے بچت کا ایک انتہائی مقبول، آسان اور قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی براہِ راست ضمانت کے تحت جاری کیے جانے والے یہ بانڈز نہ صرف مکمل طور پر محفوظ ہوتے ہیں بلکہ ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سرمایہ کار جب چاہیں اسٹیٹ بینک یا سٹیٹ لائف اور قومی بچت کے دفاتر سے ان بانڈز کو کیش (نقد رقم میں تبدیل) کروا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نیشنل سیونگز سینٹر سیالکوٹ رواں ماہ 1500 روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کے انعقاد کے لیے تیار

انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی سال میں 4 بار، ہر سہ ماہی (3 ماہ بعد) منعقد کی جاتی ہے۔ کم قیمت، آسان دستیابی اور اصل رقم کے سو فیصد محفوظ ہونے کی وجہ سے ملک کی ایک بہت بڑی آبادی ان بانڈز کی خریداری میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور ہر بار لاکھوں لوگ اپنی قسمت آزماتے ہیں۔

غیر دستاویزی معیشت کو کنٹرول کرنا

حکومت جب پرائز بانڈز جاری کرتی ہے، تو عوام کے گھروں میں پڑا ہوا ‘کیش’ (نقدی) بینکنگ چینل یا حکومتی خزانے میں آ جاتا ہے۔ حکومت اس رقم کو ملکی ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کرتی ہے، جس سے معیشت کو سہارا ملتا ہے۔

چھوٹے سرمایہ کاروں کا تحفظ

 پاکستان میں رئیل اسٹیٹ یا اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے لاکھوں روپے کی ضرورت ہوتی ہے، جو غریب یا مڈل کلاس آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ 200 روپے کا بانڈ ایسے لوگوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ تھوڑی سی رقم بچا کر بھی معاشی سرگرمی کا حصہ بن سکیں اور ان کی اصل رقم کی مالیت بھی کم نہ ہو۔

ٹیکس ریونیو میں اضافہ

پرائز بانڈز پر ملنے والے انعامات پر حکومت ایک مخصوص شرح سے ‘ودہولڈنگ ٹیکس’ وضع کرتی ہے۔ فائلرز اور نان فائلرز کے لیے یہ ٹیکس ریٹ مختلف ہوتا ہے۔ اس طریقے سے حکومت کو قرعہ اندازی کے فوری بعد کروڑوں روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوتا ہے، جو ملکی خزانے کے لیے فائدہ مند ہے۔

ڈیجیٹلائزیشن کا چیلنج

اب جبکہ دنیا ڈیجیٹل ہو رہی ہے، حکومت نے بڑے بانڈز (جیسے 40000 اور 25000 روپے) کو رجسٹرڈ بانڈز میں تبدیل کر دیا ہے۔ 200 روپے کا بانڈ اب بھی روایتی شکل میں دستیاب ہے، لیکن مستقبل میں چھوٹے بانڈز کو بھی ‘ڈیجیٹل پرائز بانڈ اسکیم’ کے تحت لایا جا سکتا ہے تاکہ انعامات کی ادائیگی اور ٹیکس کٹوتی کا نظام مزید شفاف ہو سکے۔

Related Articles