اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے باعث عوام کی توجہ کم خرچ اور استعمال میں آسان گاڑیوں کی طرف ہے۔ خاص طور پر وہ ڈرائیور جو 10 لاکھ روپے یا اس سے کم بجٹ میں اپنی ذاتی گاڑی خریدنے کا پلان رکھتے ہیں، ان کے لیے مارکیٹ میں کچھ ایسے استعمال شدہ ماڈلز دستیاب ہیں جو فیول ایفیشنسی، سادہ مینٹیننس اور سستے اسپیئر پارٹس کی وجہ سے آج بھی مقبول ہیں۔
ماہرین آٹو مارکیٹ کے مطابق 2026 میں بھی ایسے چند پرانے ماڈلز عام آدمی کی پہنچ میں ہیں، جن کی قیمتیں بجٹ 10 لاکھ روپے تک میں آتی ہیں یا کبھی کبھار اس کے قریب نظر آتی ہیں، بشرطِ حال گاڑی کی حالت، سال اور میلِیج پر۔
مہران: عوامی پسندیدہ سٹی کار
پاکستان کی مشہور ترین سستی گاڑی سوزوکی مہران بدستور مارکیٹ میں سب سے کم قیمت میں دستیاب ہے۔ 1995 تا 2010 تک کے استعمال شدہ ماڈلز عام طور پر 4 لاکھ سے لے کر 9 لاکھ روپے تک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔ آسان مرمت اور سستے سپیئر پارٹس نے اسے کم آمدنی والے خریداروں میں اولین انتخاب بنا رکھا ہے۔
ڈائی ہاٹسو کورے:
جاپانی امپورٹڈ ڈائی ہاٹسو کورے اپنے چھوٹے انجن اور ایندھن کی بچت کی وجہ سے شہروں میں کافی مقبول ہے۔ اس کے 2000 تا 2006 تک کے ماڈلز عموماً 5 لاکھ سے 9 لاکھ روپے کے اندر مل جاتے ہیں۔ صارفین اسے کم خرچ اور روزمرہ ڈرائیو کے لیے موزوں قرار دیتے ہیں۔
پرانی سوزوکی آلٹو:
سٹی ڈرائیونگ کے لیے پسندیدہ آلٹو کے 2001 تا 2007 تک کے پرانے ماڈلز بھی اکثر 5 لاکھ سے 9 لاکھ روپے کی حدود میں دستیاب رہتے ہیں۔ ان گاڑیوں کا کم وزن اور مناسب فیول ایفیشنسی مارکیٹ میں ان کی مانگ برقرار رکھتی ہے۔
سوزوکی کلٹس :
کلٹس کے ابتدائی ماڈلز، جن کی عمر پرانی ہے، وہ بھی تقریباً 7 لاکھ سے 10 لاکھ روپے کے درمیان دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کی قدر بڑھتی ہوئی سائز اور خاندان کے لیے مناسب جگہ کی وجہ سے ہے، مگر 10 لاکھ کی حد کو عبور بھی کر سکتے ہیں۔
پرانی ہنڈا سٹی:
اگرچہ 10 لاکھ روپے کے اندر محدود تعداد میں، ہنڈا سٹی کے پرانے ماڈلز (1999 تا 2003) مارکیٹ میں نظر آتے ہیں۔ اچھی حالت میں موجود گاڑیوں کی قیمتیں 8 لاکھ تا 10 لاکھ تک ہو سکتی ہیں، اور پاور اسٹیئرنگ جیسے فیچرز کی وجہ سے خریداروں میں دلچسپی برقرار ہے۔
ہیونڈائی سانٹرو (پرانے ماڈلز):
مارکیٹ میں 2001 تا 2006 تک کے سانٹرو بھی 7 لاکھ تا 10 لاکھ روپے تک آتے ہیں۔ بہتر بلڈ کوالٹی، بلند باڈی اور مناسب انجن کی وجہ سے یہ گاڑیاں چھوٹی فیملیز کے لیے ایک اچھا انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔
جاپانی امپورٹڈ ٹوئوٹا ڈیوئٹ کے ماڈلز بھی مخصوص حالت میں 8 لاکھ تا 10 لاکھ میں ملتے ہیں۔ مناسب سائز اور سادہ انجن نے اسے استعمال میں آسان رکھا ہوا ہے۔
کیا کلاسک:
کچھ استعمال شدہ کیا کلاسک گاڑیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں جن کی قیمت غالباً 7 لاکھ تا 10 لاکھ تک ہوتی ہے۔ سادہ فیچرز اور بنیادی سہولیات انہیں سادہ ڈرائیورز میں مقبول بناتی ہیں۔
سوزوکی بالینو:
بالینو کے پرانے 2000s ماڈلز بھی کبھی کبھار 8 لاکھ تا 10 لاکھ کے اندر مل جاتے ہیں، اگرچہ اس میں سپیئر پارٹس تھوڑے مہنگے ہو سکتے ہیں۔