عام طور پر ہیرے کو دنیا کی نایاب ترین اشیا میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق کائناتی پیمانے پر دیکھا جائے تو لکڑی ہیرے سے کہیں زیادہ نایاب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیرا صرف کاربن پر شدید دباؤ اور حرارت کے باعث بنتا ہے۔ اس عمل کے لیے نہ زندگی درکار ہوتی ہے، نہ حیاتیاتی ارتقا، بلکہ صرف طبیعی قوانین کافی ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہیرے زمین کے علاوہ شہابیوں، نیپچون اور یورینس جیسے سیاروں کے ماحول میں بھی دریافت کیے جا چکے ہیں، جبکہ سائنس دانوں نے دور دراز ستاروں کے گرد بھی ان کے شواہد حاصل کیے ہیں۔
دوسری جانب لکڑی ایک نہایت پیچیدہ حیاتیاتی مادہ ہے، جو بنیادی طور پر سیلولوز، ہیمی سیلولوز اور لیگنن پر مشتمل ہوتی ہے۔ خاص طور پر لیگنن ایسا نامیاتی مرکب ہے جو لاکھوں برس کے حیاتیاتی ارتقا کے بعد پودوں میں پیدا ہوا، تاکہ وہ سیدھے کھڑے رہ سکیں، پانی کو جڑوں سے پتوں تک پہنچا سکیں اور ہوا و کشش ثقل کا مقابلہ کر سکیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معلومات کے مطابق لیگنن صرف زمین پر پایا جاتا ہے، کیونکہ اس کی تشکیل کے لیے پیچیدہ نباتاتی زندگی کا ارتقا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق لکڑی کی تشکیل کے لیے مائع پانی، مستحکم فضا، اربوں سال پر محیط حیاتیاتی ارتقا اور درختوں کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول درکار ہوتا ہے، جبکہ ہیرا نسبتاً آسان طبعی عمل کے ذریعے کائنات کے مختلف حصوں میں بن سکتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر لکڑی کی فراوانی کے باعث ہم اسے معمولی شے سمجھتے ہیں، لیکن کائناتی تناظر میں ممکن ہے یہ ہیرے سے بھی زیادہ نایاب ہو۔
البتہ ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اب تک زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر لکڑی یا جنگلات کی موجودگی کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا۔ اگر مستقبل میں کہیں اور جنگلات دریافت ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک غیر معمولی سائنسی کامیابی ہوگی، اور اگر نہ ملے تو یہ حقیقت بھی اتنی ہی حیران کن ہوگی۔