گمشدہ طوطے نے واپسی پر مالک کو حیران کر دیا

گمشدہ طوطے نے واپسی پر مالک کو حیران کر دیا

امریکا میں ایک افریقی گرے طوطے کی حیرت انگیز واپسی کی کہانی نے دنیا بھر میں لوگوں کو حیران کر دیا، جب وہ چار سال بعد اپنے مالک کے پاس تو لوٹ آیا، مگر اس دوران اپنی انگریزی بھول کر روانی سے ہسپانوی زبان بولنے لگا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائجل نامی یہ افریقی گرے طوطا برطانوی شہری ڈیرن چِک کی ملکیت تھا، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس میں رہتے تھے۔

سال 2010 میں نائجل اچانک گھر سے لاپتا ہوگیا۔ اس وقت وہ اپنے مالک کی نقل کرتے ہوئے خالص برطانوی لہجے میں انگریزی بولتا تھا۔ چار برس تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا، جس کے بعد مالک نے امید تقریباً چھوڑ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :50 ملین ڈالر کا منصوبہ، ہر ہفتے 10 کروڑ مکھیاں کیوں تیار کی جائیں گی؟

چار سال بعد ایک مقامی خاتون، جو کتوں کی گرومنگ کا کاروبار کرتی تھیں، نے طوطے کو اپنے گھر کے باہر دیکھا اور اسے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ وہاں اس کے جسم میں نصب مائیکرو چپ اسکین کی گئی، جس سے اس کے اصل مالک کا پتا چل گیا۔

مالک اور طوطے کی ملاقات جذباتی ضرور تھی، مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ نائجل اپنا برطانوی لہجہ اور انگریزی تقریباً بھول چکا تھا اور اب روانی سے ہسپانوی زبان بول رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :2 ہزار سال پرانی پراسرار تختی سے جادوئی منتر برآمد

میڈیا رپورٹس کے مطابق طوطا بار بار بوئینوس دیاس’’Buenos días‘‘ (گڈ مارننگ) کہتا اور ’’لیری‘‘نامی کسی شخص کو پکارتا تھا، جس سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ گزشتہ چند برس کسی ہسپانوی بولنے والے خاندان کے ساتھ رہا ہوگا۔

اگرچہ یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ نائجل چار سال کہاں رہا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقی گرے طوطے غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں اور اپنے اردگرد کے ماحول سے نئی زبانیں اور آوازیں سیکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔

کچھ وقت بعد نائجل دوبارہ اپنے پرانے گھر کے ماحول سے مانوس ہوگیا، تاہم اس کی یہ دلچسپ کہانی دنیا کے منفرد ترین اور حیران کن پالتو جانوروں کی واپسی کے واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔

editor

Related Articles