ملک بھر میں چکن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث گوشت مہنگا ہو کر ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برائلر گوشت کی قیمت میں فی کلو 7 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 591 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ہے، یہ اب تک کی بلند ترین قیمت سمجھی جا رہی ہے۔
خاص طور پر صاف ستھرا اور معیاری برائلر گوشت 700 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے متوسط اور کم آمدنی والے افراد کے لیے چکن خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
دکانداروں کے مطابق ایک مکمل مرغی کی قیمت ایک ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو گھریلو بجٹ پر براہِ راست منفی اثر ڈال رہی ہے، زندہ برائلر مرغی کے فارم ریٹ کو 380 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تھوک کی سطح پر یہ قیمت 394 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
پرچون میں زندہ مرغی کی قیمت 408 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، چکن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پورے سپلائی چین پر محسوس کیا جا رہا ہے، جس کی قیمت کا بوجھ آخرکار صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی طرح انڈوں کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر برقرار ہیں، جہاں مارکیٹ میں انڈے کی قیمت 331 روپے فی درجن ہے اور ایک پیٹی کی قیمت 9 ہزار 810 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چکن اور انڈے جیسی بنیادی خوراک کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور ان کے روزمرہ کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں فیڈ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی اور گیس کے مہنگے نرخ، بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور طلب میں اضافے جیسے عوامل شامل ہیں۔ فیڈ پر سبسڈی کی کمی اور ان پٹ لاگتوں میں اضافہ بھی قیمتوں کے بڑھنے کا سبب ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ گوشت اور انڈے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔