ایران میں مبینہ بھارتی مداخلت، منظم انفارمیشن وارفیئر کے شواہد سامنے آ گئے

ایران میں مبینہ بھارتی مداخلت، منظم انفارمیشن وارفیئر کے شواہد سامنے آ گئے

ایران میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والے منفی بیانیوں اور من گھڑت خبروں کے تناظر میں بیرونی مداخلت کے شواہد سامنے آ گئے، ایران اس وقت ایک منظم اور سوچی سمجھی انفارمیشن وارفیئر کا سامنا کر رہا ہے، جس کے تانے بانے مبینہ طور پر بھارت اور افغانستان سے جا ملتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈا، من گھڑت خبروں اور گمراہ کن بیانیوں کی منظم مہم جاری ہے، جس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را  اور افغان انٹیلی جنس ادارے GDI سے منسلک خصوصی سیلزسرگرم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی اور افغان ہینڈلز کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مقامی احتجاج کو ایک بڑے بین الاقوامی بحران کی شکل دینا اور ایرانی ریاست کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانا ہے ۔

یہاں ہم کچھ من گھڑت پوسٹس شامل کررہے ہیں جوزیادہ تر بھارتی اکاؤنٹس سے منسلک ہیں اور یہ بھارتی پراپیگنڈا کی عملی تصویر ہے، ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں مختلف دعوے کیے جارہے ہیں جیسا  کہ اسرائیل آئندہ 72 گھنٹوں میں ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور  روس سے ایرانی فضائی حدود میں بھاری فوجی طیارے پہنچے ہیں۔

ایک اور دعوے میں کہا گیا ہے کہ ایران جل رہا ہے ، یہاں  جاری احتجاج  جمہوریت کے لیے کیا جارہا ، اسے خطے میں نئی سفارتی صف بندیاں متوقع ہیں،  تاہم یہ تمام اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔

 مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مہم صرف اطلاعاتی نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا ایران کے ساتھ رویہ قدیم کہاوت “بغل میں چھری، منہ میں رام رام” کی عملی تصویر بن چکا ہے،  ایک طرف بھارت چاہ بہار پورٹ جیسے منصوبوں کے ذریعے ایران کے ساتھ دوستی اور اقتصادی تعاون کا دعویدار ہے، جبکہ دوسری جانب پسِ پردہ ایران کے خلاف منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

2025 کی ایران-اسرائیل جنگ کے دوران، یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ بھارت نے ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے اسرائیل کو بالواسطہ مدد فراہم کی۔

دشمن کو انٹیلی جنس کی فراہمی اور ایرانی انفراسٹرکچر میں ‘سافٹ ویئر بگ’ چھوڑنا ثابت کرتا ہے کہ بھارت کی دوستی محض ایک لبادہ ہے، جس کے پیچھے تخریب کاری کا خنجر چھپا ہوا ہے ، بھارتی حکومت کا  یہ منافقانہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ بھارت ایک نعمت نہیں بلکہ ایک ناقابلِ اعتبار اور آستین کا سانپ ثابت ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ایران کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں ، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کو بھارت کے ساتھ تعلقات میں محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق جدید تنازعات میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جہاں غیر مصدقہ معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں اور اکثر ان کا تعلق ریاستی پالیسی کے بجائے انفرادی یا غیر منظم نیٹ ورکس سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ہندوتوا نظریے پر کاربند ظالم مودی سرکار کا جنگی جنون حد سے تجاوز کر گیا

دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران میں امن، خودمختاری اور طویل المدتی استحکام کا حامی ہے، پاکستانی حکومت کاماننا ہے کہ خطے میں کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

پاکستان نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کی پاسداری کریں تاکہ پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *