خیبر پختونخوا پولیس نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، جرائم پر قابو پانے اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کی جانے والی نمایاں کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال بھر میں صوبے بھر میں 3277 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 1300 سے زائد دہشت گرد گرفتار جبکہ 460 دہشت گرد مقابلوں میں ہلاک کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران29 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے سروں پر انعامات مقرر تھے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جس سے کئی بڑے دہشت گرد حملے ناکام بنائے گئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کی یہ کامیابیاںخیبر پختونخوا پولیس کی قیادت میں ممکن ہوئیں۔ آئی جی پی ذوالفقار حمید کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس نظام اور سخت پیشہ ورانہ تربیت کو اپناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ رہی، جو پولیس کی بہتر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرک، پولیس کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی،دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ
رپورٹ کے مطابق اگرچہ 2025 کے دوران پولیس پر حملوں میں48 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پولیس نے 83 فیصد حملوں کو بروقت ناکام بنایا۔ پولیس شہداء کی تعداد گزشتہ سال کے برابر رہی، جسے حکام فورس کی بہتر دفاعی تیاری اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی۔ پولیس لائنز، تھانوں اور دیگر عمارات کی تعمیر و مرمت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سال 2025 کے دوران ہری پور اور کرک میں پولیس لائنز کی تعمیر مکمل کی گئی جبکہ مختلف اضلاع میں نئے تھانوں اور چوکیات کا افتتاح بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پشاور میگا سیف سٹی منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کے تحت شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جا رہی ہے۔
پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی ریکارڈ اقدامات کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق فورس کی ویلفیئر پر خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ 2500 نئے ریکروٹس نے مختلف خصوصی تربیتی کورسز مکمل کیے۔ اہلکاروں کے لیے بلاسود قرضے، تعلیمی اسکالرشپس اور بہتر طبی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔
سالانہ رپورٹ کے اختتام پر آئی جی پی ذوالفقار حمید نے 2025 کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2026 میں بھی دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس بلا خوف و خطر دہشت گردوں کا مقابلہ کرے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔