امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں نریندر مودی کی حکومت کے دوران بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تعصب، عدم برداشت اور تنگ نظری کو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 کے بعد جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے ہیں، ملک میں مذہبی اقلیتوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اخبار کے مطابق مسلمانوں، جو بھارت کی آبادی کا 14 فیصد ہیں، انتہا پسند ہندوؤں کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ مسلمانوں کو رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹنگ کے شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، اور اکثر انہیں ووٹ ڈالنے یا ہندو اکثریتی علاقوں میں کاروبار کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ انہیں اپنی مخصوص آبادیوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عیسائی، جو بھارت کی آبادی کا محض 2.3 فیصد ہیں اور زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، بھی انتہا پسندوں کی غنڈہ گردی اور نفرت کا شکار ہیں۔ ہندو انتہا پسند عیسائیت کو ایک تصوراتی خطرہ سمجھتے ہیں اور عیسائیوں پر حملوں کا جواز تبدیلی مذہب کو روکنے کے اقدامات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 2025 میں بھارت میں عیسائیوں کے خلاف 706 واقعات رپورٹ ہوئے۔؎
اخبار کے مطابق اتر پردیش، بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا، جس کے دوران انتہا پسند ہندوں نے گرجا گھروں کے باہر جمع ہو کر عیسائی مشنریوں کے خلاف نعرے لگائے اور بلند آواز میں ہندو مذہب کی دعائیں پڑھیں۔ اس طرح کے واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار تقریباً ہر بھارتی ریاست میں دیکھے گئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بھارت میں سیکولرازم عملی طور پر کبھی مضبوط نہیں رہا، اور مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کا دکھاوا بھی ختم ہو گیا ہے۔ اخبار نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مودی حکومت نے کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت نہیں کی، جس سے انتہا پسند اقدامات کے لیے خاموش منظوری کا اشارہ ملتا ہے۔
2025 کی اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے سفارش کی ہے کہ بھارت کو خاص تشویش والا ملک قرار دیا جائے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو بغیر کسی روک ٹوک اور سزا کے ہونے دیا جا رہا ہے۔