امریکا نے منشیات کے خلاف اپنی عالمی مہم کے تحت ایک اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے فینٹینائل کی سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی کاروباری شخصیات کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی دہلی میں قائم امریکی سفارت خانے نے متعدد بھارتی کاروباری ایگزیکٹوز اور کارپوریٹ لیڈروں کے نہ صرف موجودہ ویزے منسوخ کیے بلکہ مستقبل کے لیے جمع کرائی گئی ویزا درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی فینٹینائل کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی غیر قانونی ترسیل اور اسمگلنگ کے الزامات پر عمل میں لائی گئی ہے۔
فینٹینائل ایک انتہائی طاقتور مصنوعی نشہ آور دوا ہے، جو کم مقدار میں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے اور امریکا سمیت کئی ممالک میں منشیات سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔
امریکی حکومت طویل عرصے سے اس منشیات کی سپلائی چین کو توڑنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، جن میں کیمیکل فراہم کرنے والوں اور سہولت کاروں کے خلاف سفارتی اور قانونی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی سفارت خانے کا مؤقف ہے کہ امریکا میں داخلے کی اجازت ایک حق نہیں بلکہ ایک سہولت ہے اور اگر کسی فرد یا ادارے پر ایسے سنگین الزامات ہوں جو امریکی قوانین یا عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں تو اس سہولت کو واپس لیا جا سکتا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت بھارتی کاروباری شخصیات کے خلاف ویزا اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ فینٹینائل اور دیگر خطرناک منشیات کی عالمی سپلائی کو روکا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل امریکی کانگریس میں دیے گئے ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ان 23 بڑے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا جن پر منشیات کی ترسیل یا غیر قانونی پیداوار میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
اس بیان کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ امریکا اس معاملے پر عملی اقدامات بھی کرے گا، جو اب ویزا منسوخی کی صورت میں سامنے آ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک کے کاروباری حلقوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ اگر کوئی فرد یا کمپنی منشیات یا اس سے جڑے کیمیکلز کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔