وینزویلا میں امریکا کی جانب سے کی گئی کارروائی پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، چین اور فرانس نے اس اقدام کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور وینزویلا کی قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرے۔
دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ کسی بھی خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں طاقت کے استعمال یا مداخلت سے نہ صرف علاقائی امن کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ عالمی قوانین کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی کارروائی ایک خودمختار ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کے مترادف ہے جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں چین نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے اور وینزویلا کی خودمختاری، آزادی اور سلامتی کا احترام کرے۔
چینی حکام کے مطابق مسائل کا حل طاقت یا دباؤ کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے،دوسری جانب فرانس نے بھی وینزویلا میں امریکی کارروائی، خصوصاً صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے متعلق خبروں پر سخت ردِعمل دیا ہے،فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ کسی منتخب صدر کو زبردستی ہٹانا یا گرفتار کرنا عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
فرانس نے واضح کیا کہ وینزویلا کا مستقبل طے کرنے کا حق صرف اور صرف وینزویلا کے عوام کو حاصل ہے، کسی بیرونی طاقت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ سیاسی فیصلے مسلط کرے۔
فرانسیسی بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سیاسی اختلافات یا بحرانوں کا حل پرامن طریقوں سے نکالا جانا چاہیے،طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے،فرانس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور وینزویلا میں سیاسی استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے۔