لاطینی امریکا میں ہفتے کے روز اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب امریکا نے باضابطہ پر وینزویلا پر حملہ کر دیا جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر کی ہے۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
وینزویلا نے امریکا پر دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ حکام کے مطابق رات گئے متعدد دھماکوں، نچلی پرواز کرنے والے طیاروں اور بجلی کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
وینزویلا کی حکومت کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے کے قریب کراکس میں کم از کم 7 دھماکے سنے گئے جبکہ کئی محلوں کے اوپر طیارے کم بلندی پر پرواز کرتے رہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کے کئی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔ کراکس میں ایک فوجی اڈے کے ہینگر سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ ایک اور فوجی تنصیب کی بجلی منقطع ہو گئی۔
شہریوں نے خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے۔ 21 سالہ دفتری ملازم کارمین ہیڈالگو نے کہاکہ ‘ساری زمین ہل گئی، یہ بہت خوفناک تھا۔ ہم نے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور دور سے طیاروں کی گڑگڑاہٹ محسوس کی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہوا ہم سے ٹکرا رہی ہو‘۔کئی علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے جبکہ آسمان پر دھوئیں کے بادل اور مزید دھماکوں کی جھلکیاں دکھائی دیتی رہیں۔ اس کے باوجود سرکاری ٹی وی نے اپنی نشریات معطل نہیں کیں اور موسیقی و ثقافت پر پروگرام نشر کرتا رہا۔
مادورو کا ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل نے امریکی کارروائی کو ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس حملے کو مسترد، مذمت اور بے نقاب’ کرتا ہے۔ صدر نکولس مادورو نے بعد ازاں ایک فرمان پر دستخط کرتے ہوئے پورے ملک میں بیرونی خلفشار کے باعث ہنگامی حالت نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔
ٹرمپ کا بڑے پیمانے پر حملے’ کا دعویٰ، مادورو کی گرفتاری کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر دعویٰ کیا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف ‘بڑے پیمانے پر حملہ’ کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ‘گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے’۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ‘امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے’ کی گئی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا نے کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فورسز نے وینزویلا کی مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک ڈاکنگ جگہ کو تباہ کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی فوج نے کی یا خفیہ اداروں نے۔ یہ وینزویلا کی سرزمین پر امریکا کی پہلی براہِ راست زمینی فوجی کارروائی ہے۔
کیوبا اور کولمبیا کا سخت ردِعمل
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل برمودیز نے امریکا کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے وینزویلا پر مبینہ حملے کو ‘مجرمانہ اقدام’ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے کہا کہ خطے کا ‘امن کا زون’ بری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے وینزویلا ہی نہیں بلکہ ‘ہماری امریکا’ کے خلاف ‘ریاستی دہشت گردی’ قرار دیا۔ انہوں نے بیان کا اختتام انقلابی نعرے پر کیا، ‘وطن یا موت، ہم کامیاب ہوں گے’۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی وینزویلا میں دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ‘کوئی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے اور شہری آبادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے’۔
اپوزیشن خاموش، ماچادو کا پس منظر زیرِ بحث
وینزویلا کی اپوزیشن نے کہا ہے کہ امریکی حملے پر اس وقت کوئی باضابطہ مؤقف نہیں اپنایا گیا۔ اپوزیشن کے ایک ترجمان کے مطابق دھماکوں اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق صورتحال غیر واضح ہونے کے باعث فی الحال کوئی ردِعمل نہیں دیا جا رہا۔
اپوزیشن کی نمایاں رہنما ماریا کورینا ماچادو، جو صدر مادورو کی سخت ناقد ہیں، ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی تیاریوں اور اقدامات کی حمایت کر چکی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ایک وینزویلا آئل ٹینکر کی ضبطی کے بعد امریکی اقدامات کو ’فیصلہ کن‘ قرار دیا تھا۔ وینزویلا کی حکومت نے ماچادو کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا، جس پر اپوزیشن اور متعدد عالمی حلقوں نے تنقید کی۔ ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ
دوسری جانب بوگوٹا میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اسے کراکس اور اس کے اطراف میں دھماکوں کی اطلاعات کا علم ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ایک بار پھر وینزویلا کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی اور ملک میں موجود امریکیوں سے کہا کہ جیسے ہی محفوظ ہو، وہاں سے نکل جائیں۔
سیکیورٹی نوٹس میں بتایا گیا کہ وینزویلا لیول فور ‘سفر نہ کریں’ ایڈوائزری کے تحت ہے، جو سب سے بلند سطح ہے۔ بیان میں یاد دلایا گیا کہ مارچ 2019 میں امریکی محکمہ خارجہ نے کراکس میں اپنے سفارت خانے سے تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا اور سفارتی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔
بڑھتا ہوا دباؤ
صدر مادورو بارہا واشنگٹن پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر قبضہ حاصل کیا جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ مادورو پر منشیات کارٹیل کی قیادت کا الزام لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ مادورو ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں امریکا نے وینزویلا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے پابندیاں سخت کیں، فضائی حدود کو غیر رسمی طور پر بند کیا، تیل بردار جہاز ضبط کیے اور کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات اسمگلرز کی کشتیوں پر حملے کیے۔
علاقائی اور عالمی سطح پر ردِعمل کے تسلسل کے ساتھ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ صورتحال پہلے ہی کشیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں مزید خطرناک تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔