پنجاب میں دھند کا راج، موٹرویز مختلف مقاما ت سے بند،ٹریفک کی آمدورفت معطل

پنجاب میں دھند کا راج، موٹرویز مختلف مقاما ت سے بند،ٹریفک کی آمدورفت معطل

پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث موٹرویز کو مختلف مقامات سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے،موٹروے پولیس سینٹرل ریجن کے ترجمان کے مطابق حدِ نگاہ میں خطرناک حد تک کمی کے پیش نظر موٹروے ایم-2 لاہور سے کوٹ مومن تک، ایم-3 فیض پور سے درخانہ تک، ایم-4 پنڈی بھٹیاں سے گوجرہ تک اور ایم-4 ہی خانیوال سے ملتان تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دھند کی شدت کے باعث ڈرائیوروں کو سامنے کی ٹریفک، سڑک کے نشانات اور لینز دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہےجس سے حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے اسی لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر موٹرویز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

موٹروے پولیس کے مطابق سڑکوں کی بندش کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، ترجمان نے واضح کیا کہ دھند کے دوران لین کی خلاف ورزی، غیر ضروری اوورٹیکنگ اور تیز رفتاری جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مختلف شہروں میں دھند کے ڈیرے، حدنگاہ شدید متاثر، موٹرویز متعدد مقامات سے بند

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے حتی الامکان گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو دن کے اوقات کو ترجیح دیں، موٹروے پولیس کے مطابق دھند میں نسبتاً محفوظ سفری اوقات صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک سمجھے جاتے ہیں، اس دوران حدِ نگاہ قدرے بہتر ہوتی ہے۔

ڈرائیوروں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ ہر صورت لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے،سینٹرل ریجن کے ترجمان نے مزید کہا کہ دھند کے دوران فوگ لائٹس کا استعمال لازمی کریں تاکہ گاڑی دور سے نظر آ سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے اجتناب، آگے چلنے والی گاڑی سے مناسب اور محفوظ فاصلہ رکھنا اور اچانک بریک لگانے سے پرہیز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کی رہنمائی، مدد یا ہنگامی صورتِ حال میں موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر فوری رابطہ کیاجاسکتا ہے، جہاں عملہ ہر وقت مسافروں کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *