ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، صبح سویرے چھانے والی گھنی دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کئی اہم موٹرویز اور شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی معطل یا شدید متاثر رہی۔
صورتحال کے پیش نظر موٹروے پولیس نے مختلف مقامات پر سڑکوں کو عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے،موٹروے ایم ون پر پشاور سے رشکئی اور صوابی سے برہان تک آمد و رفت روک دی گئی۔
اسی طرح موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن کے درمیان ٹریفک معطل رہی، جبکہ موٹروے ایم تھری فیض پور سے جڑانوالہ تک بند کر دی گئی۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کو ملانے والی موٹروے ایم فائیو پر بھی ملتان سے روہڑی تک گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔
لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم الیون کو بھی دھند کے باعث بند کر دیا گیا جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دھند کا اثر صرف موٹرویز تک محدود نہیں رہا بلکہ گوجرانوالہ، بہاولپور، احمد پور شرقیہ، رحیم یار خان اور صادق آباد سمیت کئی شہروں میں بھی حدِ نگاہ انتہائی کم ریکارڈ کی گئی۔
قومی شاہراہوں پر بھی دھند کے باعث ٹریفک سست روی کا شکار رہی اور کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، موٹروے پولیس کے ترجمان نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو فوگ لائٹس کا استعمال کریں اور مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔
دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال بھی تشویشناک حد تک برقرار ہے، لاہور عالمی سطح پر آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 428 تک پہنچ گیا۔ رحیم یار خان میں یہ شرح 459 ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں 447 اور فیصل آباد میں 434 تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق آلودگی اور دھند کا یہ امتزاج انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کے لیے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز تک دھند اور اسموگ کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، لہٰذا شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں اور صحت کے تحفظ کو ترجیح دیں۔