چین نے وینز ویلا کے صدر کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا

چین نے وینز ویلا کے صدر کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا

چین نے امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کی جانے والی کارروائی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی خودمختار حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بند کرے اور مسئلے کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

چینی بیان کے مطابق امریکا کی جانب سے طاقت کے استعمال کے ذریعے کسی خودمختار ملک کے صدراوران کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کرنا عالمی ضابطوں، اقوامِ متحدہ کے منشور اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے،چین نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

 چین کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا فوری طور پر صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے،یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے اور تمام فریقین کے ساتھ سفارتی ذرائع کے ذریعے حل تلاش کرے۔ چین نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول ہےاوراس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مادوروکو اغواکیا گیا،کسی ملک کی کالونی نہیں بنیں گے،نائب صدر وینز ویلا

امریکی کارروائی پر عالمی سطح پر ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ روس، کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک نظیر قرار دیا ہے۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری کارروائی کرے اور اس معاملے کے ذمے داران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ چلی کے صدر گیبرئیل بورک نے خبردار کیا کہ اگر آج وینزویلا میں اس نوعیت کی کارروائی ممکن ہے تو مستقبل میں کسی اور ملک کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امریکی اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون اور اس کے ضوابط کا احترام ہر حال میں لازم ہے ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مکالمہ ہی پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

 یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نئے تناؤ کی علامت سمجھی جا رہی ہےجس کے اثرات نہ صرف لاطینی امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ چین اور دیگر ممالک کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے کہ تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *