وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی نوآبادی نہیں بنے گا۔
امریکی فوج کی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ڈیلسی روڈریگیز نے قوم سے خطاب میں کہا کہ مادورو ہی وینزویلا کے جائز صدر ہیں اور انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل اور اتحاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا کے دفاع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت تیار ہے۔
ڈیلسی روڈریگیز نے مزید کہا کہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دیا جائے گا۔ وینزویلا کی حکومت نے اس سلسلے میں خصوصی دفاعی کونسل بھی بلا لی ہے تاکہ ملکی دفاع اور حکومتی اقدامات کو مربوط کیا جا سکے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات امریکی کمپنیوں اور فوج کی نگرانی میں چلائے جائیں گے اور وینزویلا کی تیل کی صنعت میں امریکی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کو بطور عبوری صدر حلف دلانے کی بھی بات کی گئی۔
امریکی کارروائی میں امریکی جنگی طیاروں اور ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ وینزویلا نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
ڈیلسی روڈریگیز کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وینزویلا کی حکومت اور عوام اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔