گورنر کے پی کا سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کے حوالے سے اہم بیان

گورنر کے پی کا سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کے حوالے سے اہم بیان

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سندھ کا دورہ کرتے ہیں تو صوبائی حکومت انہیں مکمل سکیورٹی اور ہر قسم کی سہولیات فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے سہیل آفریدی کو باضابطہ دعوت دی ہے اور سندھ کی روایتی مہمان نوازی کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الصوبائی احترام اور تعاون ہی وفاق کو مضبوط بناتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں 13 سال تک حکومت کرنے کے باوجود ایک بھی نیشنل اسٹیڈیم نہیں بنایا، جو صوبے میں کھیلوں کے شعبے سے مسلسل غفلت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں میں تضاد ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تک میسر نہیں آ رہا، جو ان کی سیاسی حکمتِ عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ جو عناصر ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، وہ مکالمے اور ڈائیلاگ کی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے معتبر بین الاقوامی اخبارات میں فیلڈ مارشل کے حق میں مضامین شائع ہو رہے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک سے سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر بہتر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امن و امان کی ناقص صورتحال پر گورنر کے پی کا صوبائی حکومت سے مستعفی ہونیکا مطالبہ

انہوں نے مزید کہا کہ جب فوج میں سزا و جزا کا واضح اور مضبوط نظام موجود ہے تو یہی اصول دیگر ریاستی اداروں میں بھی لاگو ہونے چاہئیں  تاکہ نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ ایک انتشاری ٹولے نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے، وہاں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ جو عناصر پاکستان اور اس کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے، ان کے خلاف ریاستی جنگ جاری رہے گی اور اس معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتشار کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا اور قانون، آئین اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہ کر ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔

editor

Related Articles