پاکستان نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان وینزویلا کے عوام کی بھلائی کو اہمیت دیتا ہے اور بحران کے خاتمے کے لیے تحمل اور کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام فریقین سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی سلامتی اور تحفظ کے لیے پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے
یاد رہے کہ امریکی فضائیہ نے ہفتے کی صبح 3 جنوری کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور شمالی علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات اور فوجی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جس میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا۔
اسی دوران امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ زمینی آپریشن کے ذریعے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا اور فوری طور پر نیو یارک منتقل کر دیا۔ ان پر نارکو ٹیررازم اور بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا میں اقتدار کی پُرامن منتقلی تک امریکہ خود معاملات چلاتا رہے گا اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔