نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی فوجی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور کراکس کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ صورتحال ایک بڑے امریکی فوجی آپریشن کے بعد سامنے آئی، جس کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
اخبار نے ابتدائی جائزوں سے واقف ایک نامعلوم وینزویلا اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری اور فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں، جو حملوں کے پیمانے اور شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی فضائی حملہ کاراکاس کے مرکزی ہوائی اڈے کے مغرب میں واقع ساحلی اور غریب علاقے کیٹیا لا مار میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت پر کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں علاقے میں شدید تباہی ہوئی، متعدد خاندان بے گھر ہو گئے اور گھروں کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا۔
ہلاک ہونے والوں میں 80 سالہ روزا گونزالیز اور ان کے خاندان کے افراد شامل تھے، جبکہ اسی حملے میں کم از کم ایک اور شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
متاثرین نے تباہی اور مایوسی کے مناظر بیان کیے۔ روزا گونزالیز کے بھتیجے ولمین گونزالیز، جو حملے میں زخمی ہوئے، نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ گھر تباہ ہونے کے بعد انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں جائیں گے۔ ایک 70 سالہ پڑوسی خورخے نے کہا کہ انہوں نے ’سب کچھ کھو دیا ہے‘، جو عام شہریوں پر پڑنے والے شدید اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
عام شہریوں کی ہلاکتوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا میں فضائی، زمینی اور بحری افواج پر مشتمل ایک بڑا فوجی آپریشن کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات کے تحت رکھا گیا ہے۔ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس بحران کے انسانی اور سیاسی نتائج پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔