افغان طالبان رجیم کے سفاک حکمرانوں نے قانون اور انسانی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔
صوبہ غزنی کے گاؤں روزہ میں صدیوں سے مقامی خاندانوں کی ملکیت طالبان کے غاصب حکمرانوں نے تحویل میں لے لیا۔ افغان جریدہ ھشت صبح کے مطابق طالبان نے گاؤں روزہ میں ٹرانسپورٹ ٹرمینل کی تعمیر کے بہانے لوگوں کی زمینیں قبضے میں لے لیں ۔
ہشت صبح سےگفتگو کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ یہ زمینیں صدیوں سے مقامی خاندانوں کی ملکیت رہی ہیں ، سرکاری دستاویزات جمع کروانے کے باوجودطالبان حکام نے کوئی قانونی جائزہ نہیں لیا۔
مقامی باشندے مطالبہ کر رہے ہیں کہ منصوبے کو فوری طور پر روکا جائے اور زمین کی ملکیت کے جائزے کیلئےآزاد کمیٹی تشکیل دی جائے، طالبان نے زمین پر جبراً قبضہ کیا، دستاویزات اور ثبوت نظرانداز کئے ، مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ یہ زمینیں نجی ملکیت ہیں،یہ نہ تو قانونی اور نہ ہی شریعی اصولوں کے تحت کبھی ریاست کی ملکیت رہی ہیں۔
اہل علاقہ کاکہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ نے تمام دستاویزات کو نظرانداز کیا اورعلاقے میں ایک مال گاڑیوں کا ٹرمینل بنانے کا کام شروع کردیا ، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے طالبان انتظامیہ نے کوئی قانونی جائزہ نہیں لیا اور یہاں تک کہ ریکارڈ تک رسائی بھی ناممکن بنادی ہے، کسی بھی بہانے سے عوامی منصوبے کے نام پر لوگوں کی زمین لینا ناقابل قبول ہے اور اس کا کوئی قانونی یا شریعی جواز نہیں ، زمینوں پر قبضہ روزہ کے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے نہ صرف عوام کے حقوق کی کھلی پامالی کی ہے بلکہ صدیوں سے قائم قانونی اور شریعی اصولوں کو بھی روند ڈالاہے ، افغان طالبان رجیم زمین پر جبری قبضے، مظلوم کسانوں پر ظلم، خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی وسائل پر ناجائز کنٹرول کے ذریعے عوام کی زندگی اجاڑ رہی ہے۔
عالمی رسوائیوں کے باوجود ظالم طالبان رجیم مسلسل مظلوم عوام پر یکِ بعد دیگرے غیر قانونی و غیر شریعی احکامات تھوپ انسانی حقوق کی مسلسل پامالی میں مصروف ہیں۔