’’برف پگھلنے لگی‘‘، وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو گرین سگنل دیدیا

’’برف پگھلنے لگی‘‘، وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو گرین سگنل دیدیا

وزیرِاعظم شہباز شریف نے ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے کے لیے اپوزیشن سے مذاکرات کی باضابطہ حکمتِ عملی کی منظوری دے دی ہے۔

نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات پر وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک واضح منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پارلیمانی رابطے کے ذریعے سیاسی استحکام پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن کیساتھ مذاکرات اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے بالکل تیار ہیں , رانا ثناء اللہ

نجی ٹی وی کے مطابق منصوبے کے تحت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک وفد بھی تیار کر لیا گیا ہے جو اسپیکر کی درخواست پر کسی بھی وقت مذاکرات کے لیے تیار ہوگا۔

صرف منتخب پی ٹی آئی نمائندوں سے مذاکرات

رپورٹ کے مطابق مذاکرات صرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب نمائندوں سے کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ کسی غیر منتخب فرد یا نمائندے سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔

اسپیکر کی دعوت، اپوزیشن کی خاموشی برقرار

رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ارکان کو باضابطہ طور پر اپنے چیمبر میں آ کر مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اپوزیشن کی رضامندی سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اسپیکر کی پیشکش کے باوجود اب تک کسی بھی اپوزیشن رہنما نے باضابطہ طور پر اسپیکر کے دفتر سے رابطہ نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں اندرونی اختلافات کے باعث خاموشی برقرار ہے۔ اپوزیشن محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے پر بضد ہے، جبکہ کچھ سخت گیر عناصر قائدِ حزبِ اختلاف کی باضابطہ تقرری سے قبل مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں:وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26ویں آئینی ترمیم پر مذاکرات کی دعوت دے دی

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور اسپیکر قومی اسمبلی کے درمیان آخری ملاقات میں صرف محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کرنے کے مطالبے پر بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی، جس کے باعث مجموعی مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔

سیاسی استحکام اولین ترجیح

اپوزیشن کی جانب سے عدمِ جواب کے باوجود وزیرِ اعظم شہباز شریف مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسائل حل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے کیونکہ سیاسی بے یقینی کے خاتمے اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے پارلیمان کے ذریعے مکالمہ ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔اب مذاکرات کا آغاز اپوزیشن کی اس فریم ورک کے تحت بات چیت پر آمادگی پر منحصر ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *