موبائل صارفین کے لیے خوشخبری؟ پی ٹی اے نے نیا پالیسی فریم ورک جاری کردیا

موبائل صارفین کے لیے خوشخبری؟ پی ٹی اے نے نیا پالیسی فریم ورک جاری کردیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز (ایم وی این او) کے لیے نیا پالیسی فریم ورک جاری کر دیا ہے، جس کے تحت نئی ٹیلی کام کمپنیاں اپنی نیٹ ورک انفراسٹرکچر کے بغیر مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گی۔

منظور شدہ فریم ورک کے تحت کمپنیوں کو پہلے سے لائسنس یافتہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی انفراسٹرکچر استعمال کرتے ہوئے موبائل سروسز فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں مسابقت بڑھانا، صارفین کے لیے انتخاب میں اضافہ کرنا اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے نے لاکھوں سمز کیوں بلاک کیں؟ وجہ سامنے آگئی

پالیسی کے مطابق ایم وی این اوز کو موجودہ موبائل نیٹ ورکس استعمال کرنے کے لیے لائسنس یافتہ آپریٹرز کے ساتھ انٹرکنکٹ معاہدے کرنا ہوں گے، جبکہ تمام معاہدے پی ٹی اے کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔

لائسنسنگ کی شرائط اور تقاضے

فریم ورک کے مطابق ایم وی این اوز کو کمرشل سروسز کے آغاز سے قبل پی ٹی اے سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ لائسنس کی مدت 15 سال مقرر کی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق اگر کوئی لائسنس ہولڈر ایک سال کے اندر آپریشن شروع کرنے میں ناکام رہا تو اس کا لائسنس خود بخود منسوخ کر دیا جائے گا۔

ایم وی این او لائسنس کے لیے درخواست دینے والی کمپنی کا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوگا۔

پی ٹی اے نے ایم وی این او لائسنس کی ابتدائی فیس 140 ہزار ڈالر مقرر کی ہے۔ ایم وی این اوز کو اسپیکٹرم الاٹ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ریڈیو ایکسس نیٹ ورک یا کور نیٹ ورک انفراسٹرکچر نصب کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی اے کا موبائل ڈیوائسز کی رجسٹریشن عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان

فریم ورک کے مطابق اگرچہ ایم وی این اوز مشترکہ نیٹ ورکس پر کام کریں گے، تاہم سروس کے معیار کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی سے متعلق تقاضوں پر عمل درآمد ان کی مکمل ذمہ داری ہوگی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *