مہنگائی کے ستائے شہریوں کیلئے ایک اور بری خبر ، مرغی کی قیمت میں اچانک 100 روپے فی کلو تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس اضافے کے بعد لاہور سمیت کئی شہروں میں چکن کی قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، جس نے عام صارفین کیلئے چکن خریدنا مزید مشکل بنا دیا ہے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سبزیوں، دالوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں اور اب سستی پروٹین سمجھی جانے والی مرغی بھی صارفین کی جیب سے باہر ہے۔
چکن کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ حکومتی ٹیکس ہیں، حکومت فی کلو مرغی پر تقریباً 250 روپے تک مختلف ٹیکس اور چارجز وصول کر رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
تاجروں کا دعویٰ ہے کہ فیڈ، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی مرغی کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
کاروباری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر مرغی پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے اور مارکیٹ میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تو عام آدمی کو سستی اور معیاری پروٹین فراہم کی جا سکتی ہے، اضافی اخراجات قیمتوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی زندگی مشکل بنا دی ہے، اگر بنیادی خوراک کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو متوسط اور غریب طبقے کیلئے گزارا کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔