کوئٹہ: تقریباً دو سال تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 2024 کے گوادر احتجاج کے دوران ہجوم کو مبینہ طور پر اکسانے اور ایف سی اہلکار کو شہید کرنے کے مقدمے میں ماہ رنگ لانگو کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق یہ مقدمہ سیاسی رائے، پرامن احتجاج یا اختلافِ رائے کے حق سے متعلق نہیں تھا بلکہ ایک مخصوص شخص کے قتل سے متعلق تھا جس کے شواہد میں ویڈیو ریکارڈنگ، گواہوں کے بیانات اور دیگر ثبوت شامل تھے۔
مقتول سپاہی شبیر بلوچ، جو ضلع سبی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ایف سی اہلکار تھے، گوادر میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعے میں انہیں ہجوم نے الگ کر کے قابو کیا اور جان سے مار دیا۔
استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد میں کواڈ کاپٹر فوٹیج بھی شامل تھی، جس کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں ہجوم کی جانب سے اہلکار پر حملہ دکھائی دیتا ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق اسی الیکٹرانک ثبوت نے ماہ رنگ لانگو اور سبغت اللہ کے کردار کو ہجوم کو منظم کرنے اور مبینہ طور پر اشتعال دلانے کے معاملے میں واضح کیا۔
عدالت کے مشاہدے کے مطابق پرامن احتجاج اور پرتشدد کارروائی میں واضح فرق موجود ہے۔ کسی احتجاج کو اس وقت پرامن قرار نہیں دیا جا سکتا جب اس کے دوران کسی شخص کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور سرکاری ذمہ داری ادا کرنے والے اہلکار کی جان لے لی جائے۔
مقدمے کے دوران ملزمان کو قانونی دفاع کے تمام مواقع فراہم کیے گئے۔ تقریباً دو سال جاری رہنے والی سماعتوں میں وکلا کو نمائندگی، جرح، اعتراضات اٹھانے اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کا موقع دیا گیا۔
گوادر میں مقدمے کی سماعت کو ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا رہا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق متعلقہ جج نے سیکیورٹی خدشات کے باعث مقدمہ جاری رکھنے میں مشکلات ظاہر کیں، جس کے بعد کارروائی کو کوئٹہ منتقل کیا گیا تاکہ عدالتی عمل محفوظ ماحول میں جاری رہ سکے۔
گواہوں کی جغرافیائی دوری کے باعث عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت دی، جو قانون کے تحت قابلِ قبول طریقہ کار ہے اور ایسے معاملات میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں سیکیورٹی یا رسائی کے مسائل موجود ہوں۔
دفاع کی جانب سے ابتدا میں ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی پر اعتراض کیا گیا اور گواہوں کی ذاتی موجودگی کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا گیا، تاہم اس حوالے سے کسی تعصب یا بدعنوانی کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عدالتی کارروائی کے آخری مراحل میں جب استغاثہ کے شواہد پر بحث مکمل ہونے لگی تو دفاعی ٹیم کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کے حقِ دفاع کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کیا تاکہ مقدمہ یکطرفہ طور پر آگے نہ بڑھے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا کسی عجلت، خفیہ کارروائی یا بغیر دفاع کے مواقع کے نہیں دی گئی بلکہ ایک طویل عدالتی عمل کے بعد سنائی گئی جس میں شواہد کا جائزہ لیا گیا۔
مقدمے کے دوران سیکیورٹی صورتحال بھی ایک اہم معاملہ رہی۔ قانونی ٹیم سے وابستہ افراد کو مبینہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ فیصلے سے قبل وکیل کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی عمل کو دباؤ، دھمکیوں یا احتجاجی دباؤ کے ذریعے متاثر کرنا انصاف کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عدالتوں، گواہوں اور وکلا کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ ایک بار پھر اس فرق کو نمایاں کرتا ہے کہ شہریوں کو پرامن احتجاج، تنظیم سازی اور حکومت پر تنقید کا حق حاصل ہے، تاہم کسی فرد یا گروہ کو تشدد، قتل یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کا اختیار حاصل نہیں۔
ملزمان کو قانون کے مطابق فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم قانونی راستہ ہی اختیار کیا جا سکتا ہے اور کسی بھی عدالتی فیصلے کو دباؤ، دھمکی یا عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔