معروف اینکر پرسن ثنا مرزا نے موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت یہ بحث کرنا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں یا نہیں، ایک انتہائی مضحکہ خیز بیانیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ حکومتوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قائم ورکنگ ریلیشن شپ کی مثال ماضی کی کسی حکومت میں نہیں ملتی۔
ثنا مرزا کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان جو ہم آہنگی اور تعاون نظر آ رہا ہے، وہ غیر معمولی ہے اور اسی کی بدولت پاکستان کو مختلف محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تعلقات مثالی نہ ہوتے تو آج دنیا پاکستان کی سفارتی، معاشی اور دفاعی کامیابیوں کی معترف نہ ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور مضبوط تعلقات کی بدولت پاکستان نے ماضی قریب میں ہونے والی دو جنگوں میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے مطابق ایک جنگ بھارت کے خلاف جبکہ دوسری افغانستان کے خلاف تھی، جن میں پاکستان نے اپنی حکمت عملی اور قیادت کے باہمی تعاون کے باعث نمایاں کامیابی حاصل کی۔
معروف اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد اور تعاون ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر ضروری شکوک و شبہات اور منفی بیانیے پھیلانے کے بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھا جانا چاہیے، کیونکہ موجودہ قیادت کی ہم آہنگی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور کامیاب ملک کے طور پر منوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔