شاہد خٹک کو لاہور کینٹ میں داخلے کی اجازت کیوں نہ ملی ؟ تحریک انصاف کا ایک اور جھوٹا بیانیہ بے نقاب

شاہد خٹک کو لاہور کینٹ میں داخلے کی اجازت کیوں نہ ملی ؟ تحریک انصاف کا ایک اور جھوٹا بیانیہ بے نقاب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما شاہد خٹک کی جانب سے لاہور میں راستوں کی بندش اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر کیا گیا دعویٰ جھوٹا پروپیگنڈا ثابت ہوا ہے، سوشل میڈیا صارفین اور مبصرین نے ان کے بیانیے پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شاہد خٹک یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما حسام نیازی سے ملاقات کے لیے لاہور کینٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ جانا چاہتے تھے، تاہم پنجاب حکومت نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔ ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ لاہور کینٹ کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہیں اور ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو بھی اپنے پارٹی کارکنوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہوگیا یہ اب اوور سیز پاکستانیوں کو ورغلا رہے ہیں،گورنر سندھ

تاہم سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد صارفین نے متعدد تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جس مقام پر شاہد خٹک کھڑے ہو کر راستوں کی بندش کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہاں دور دور تک کوئی رکاوٹ یا ناکہ نظر نہیں آ رہا، جس سے ان کے مؤقف پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

مزید برآں صارفین نے یاد دلایا ہے کہ شاہد خٹک نے محض 10 روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر اپنی ٹانگ ٹوٹنے کا دعویٰ کیا تھا اور ٹانگ پر پلستر چڑھا کر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی تھیں۔ اب انہی دس دنوں کے اندر ان کی ٹانگ کے اچانک ٹھیک ہو جانے اور لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج میں مکمل صحت کے ساتھ شرکت کرنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بعض کارکن ماضی میں اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ شاہد خٹک کی وائرل ویڈیو اور سابقہ دعوؤں میں پائے جانے والے تضادات نے تحریک انصاف کے بیانیے کو کمزور کیا ہے اور ایک بار پھر سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوؤں کی سچائی پر بحث کو جنم دیا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف عوام میں کنفیوژن پیدا کرتے ہیں بلکہ سیاسی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *