وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عیدالفطر کے موقع پر قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے بہادر سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے لواحقین کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیاں پاکستان کے دفاع کی مضبوط بنیاد ہیں اور انہی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و استحکام ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عید کی خوشیوں کے موقع پر ہمیں ان خاندانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان کیا۔
یہ بھی پزھیں:’افغانیوں کی مہمان نوازی ہماری سب سے فاش غلطی ہے، اللہ ہمیں معاف کرے‘، خواجہ آصف
عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ امتِ مسلمہ اس وقت ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، جہاں فلسطین، سوڈان اور کشمیر کے مسلمان شدید مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خطوں کی صورتحال مسلم دنیا کی اجتماعی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمِ اسلام کی بقا اتحاد اور یکجہتی میں ہے، اور موجودہ حالات میں تفرقہ ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کسی کا حقیقی دوست نہیں اور اس کے مقابلے کے لیے مسلم ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں جاری آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر پاکستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس سے سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ قوم متحد ہو کر اپنے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر موجود خطرات کا مقابلہ کرے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عید کا موقع ہمیں اتحاد، قربانی اور قومی یکجہتی کا درس دیتا ہے، اور یہی وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔

