پرائیویٹ سکولوں کے طلباء کیلئے پریشان کن خبر

پرائیویٹ سکولوں کے طلباء کیلئے پریشان کن خبر

این او سی اور لائسنس کی تجدید فیس میں اچانک اور بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد تعلیمی کتابوں کے مہنگا ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پبلشرز نے عندیہ دیا ہے کہ نئی فیسیں لاگو ہونے کے بعد خاص طور پر نجی سکولوں کے لیے چھاپی جانے والی کتابوں کی قیمتیں 40 سے 50 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں جس کا براہِ راست اثر والدین اور طلبہ پر پڑے گا۔

پبلشرز کا مؤقف ہے کہ این او سی اور لائسنس کی تجدید کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے نے اشاعتی صنعت کے لیے مالی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
موجودہ حالات میں کتابوں کی قیمتیں برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا کیونکہ کاغذ، پرنٹنگ، ترسیل اور دیگر انتظامی اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں ایسے میں اگر سرکاری فیسوں میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیا جائے تو نقصان سے بچنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔

کتابوں کے این او سی کے لائسنس کی فیس 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے جو ایک بہت بڑا اضافہ ہے اسی طرح لائسنس کی تجدید کی فیس 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چھٹیوں کے دوران پرائیویٹ سکولوں پر بڑی پابندی عائد کردی گئی

پبلشرز کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ نہ صرف چھوٹے بلکہ درمیانے درجے کے پبلشرز کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا، جبکہ کئی چھوٹے پبلشرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کتابوں کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی جس کا اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ پڑے گا۔

والدین پہلے ہی اسکول فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات سے پریشان ہیں، ایسے میں مہنگی کتابیں ان کے لیے اضافی بوجھ بن سکتی ہیں،ماہرین تعلیم اور پبلشرز نے مطالبہ کیا ہے کہ این او سی اور لائسنس فیس میں اضافے پر نظرِ ثانی کی جائے یا کم از کم تعلیمی کتابوں کے لیے کوئی رعایتی پالیسی متعارف کرائی جائے تاکہ تعلیم عام آدمی کی دسترس میں رہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *