پی ٹی آئی کے دہشتگردوں سے نرم رویے کی آخر کیا وجہ ہے؟طلال چوہدری

پی ٹی آئی کے دہشتگردوں سے نرم رویے کی آخر کیا وجہ ہے؟طلال چوہدری

  وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف پر دہشتگردی کے معاملے پر نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے کے خلاف کسی بھی قسم کی مبہم یا دو ٹوک سے ہٹ کر بات قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاست ضرور کی جائے، احتجاج اور اسٹریٹ موومنٹ بھی چلائی جائے، لیکن پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، لیکن صوبائی حکومت نے دانستہ طور پر انسدادِ دہشتگردی کے اداروں کو نظر انداز کیا۔  انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے نہ تو فرانزک لیب قائم کی اور نہ ہی انسداد دہشتگردی کے محکموں پر مطلوبہ وسائل خرچ کیے، جس کے باعث دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کے لئے دشمن ممالک سے سوشل میڈیا ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں، طلال چوہدری

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت اور ترجمان کھل کر دہشتگردی کی مذمت کرنے سے گریز کرتے ہیں  جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ملک میں سب سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت کی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کو بھی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات دہشتگردوں کے خلاف قومی موقف کو کمزور کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا سہیل آفریدی کو ابھی تک نہیں پتہ کہ دہشتگردی کہاں سے ہورہی ہے؟سٹریٹ موومنٹ کیلئے آپ ہر جگہ گئے کیاکسی شہید کا گھر نہیں ملا کہ اسکے ساتھ بھی کھڑے ہوتےغیر قانونی افغان شہریوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ کے پی حکومت جان بوجھ کر غیر قانونی افغان باشندوں کو واپس بھیجنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ان سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو وہ افغانستان چلے جائیں، ورنہ ہم چھوڑ کر آئیں گے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے، ریاستی اداروں کو کمزور کرنے یا دہشتگردی جیسے سنگین مسئلے پر دوغلا مؤقف اپنانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ طلال چوہدری نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف ایک مضبوط، واضح اور متحد قومی بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور اس سے انحراف کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا جائے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *