خیبرپختونخوا حکومت نے صوبہ میں 600 ارب روپے سے زائد مالیت بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے اور چرس میں سرمایہ کاری کی منظوری دے دی۔بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے ریگولیٹری کمیٹی کا تیسرااجلاس22دسمبر2025ء کو وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فخر جہاں کی زیرصدارت منعقد ہوا تھا۔
جس میں وزیر صحت خلیق الرحمن، وزیر قانون آفتاب عالم، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس، ڈائریکٹرجنرل ایکسائز عبد الحلیم خان سمیت محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے منٹس کے مطابق سیکرٹری ایکسائز نے بھنگ کی کاشت اور چرس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کرنے اور سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔
اجلاس نے متفقہ طور پر خیبر پختونخوا کیلئے بھنگ ماڈل کی منظوری دی جس کے تحت تجرباتی بنیادوں پر مستند صنعتوں کو بھنگ کی کاشت اور تیاری کیلئے لائسنس جا اجرا کیا جائے گا۔کمیٹی نے بھنگ کی کاشت کیلئے لائسنس فیس 5لاکھ روپے مقرر کر دی ہے
بھنگ کی پراسسنگ کیلئے لائسنس فیس 10لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔بھنگ اور چرس کی پراسسنگ کیلئے لائسنس فیس 5لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ میٹنگ کی منٹس کے مطابق بھنگ اور چرس کی فی کلو گرام ایکسائز ڈیوٹی 5ہزارروپے مقرر کی گئی ہے۔محکمہ صنعت اور سرمایہ کاری بورڈ کوکسانوں کیساتھ مشترکہ طور پر سہولیات دینے کی منظوری دے دی گئی۔
نجی یا کو آپریٹیو کمپنی کے طور پر زمینداروں کی رجسٹریشن کو آپشنل رکھا گیا ہے جبکہ بھنگ کی بیج کی درآمد کی ذمہ داری لائسنس دینے والی انڈسٹری کی ہوگی۔
کمیٹی نے خیبر پختونخوا (کاشت،نکالنا، تطھہیر، تیاری، بھنگ کے پودے سے طبی، ریسرچ، صنعتی اور تجارتی مقاصد کیلئے حاصل چرس اور دیگر ذرات کو فروخت کرنے سے متعلق رولز میں ترامیم کی بھی منظوری دے دی۔
اجلاس کے منٹس کے مطابق بھنگ کی کاشت کیلئے خیبر پختونخوا میں معروف صنعتوں کو تجرباتی بنیادوں پر زمینداروں کیساتھ پارٹنرشپ پر لائنس جاری کئے جائیں گے۔ بھنگ کی کاشت کو عارضی طور پر ملتوی کیا جائے گا اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے جائزہ لینے اور ضروریات کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔بھنگ کی کاشت اور چرس کی پیداوارکیلئے بھنگ ماڈل پر نظر ثانی کیلئے ذیلی کمیٹی کی منظوری بھی دی گئی جو 15دنوں میں آئینی اور قانونی پہلووں پر نظر ثانی کرے گی۔
خیبرپختونخوا میں سالانہ کتنی چرس پیدا ہوتی ہے2021ء میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے ضلع خیبر، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کی کاشت کے سروے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کو ذمہ داری سونپی۔جون2021ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ، کرم اور اورکزئی میں سروے کا آغاز کیا گیا اور 6ماہ میں مکمل کر لیا گیا اس سروے پر ایک کروڑ43لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
جدید ٹیکنالوجی کی مدد اور مقامی مارکیٹ سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق تینوں اضلاع میں 72ہزار 896 ایکڑ رقبے پر بھنگ کاشت کی جاتی ہے جس سے سالانہ3500ٹن یعنی 35لاکھ کلو گرام چرس حاصل ہوتی ہے۔اس وقت بھنگ سے پیدا کی جانے والی فی کلو گرام چرس کی قیمت مارکیٹ میں ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 80ہزار کے درمیان ہوتی ہے اور اگر اس حساب سے35لاکھ کلو گرام کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے توان کی مالیت 600 ارب روپے بنتی ہے۔
سروے کے مطابق رقبے کے لحاظ سے بھنگ کی سب سے زیادہ کاشت ضلع اورکزئی میں ہوتی ہے دوسرے نمبر پر ضلع خیبر کی وادی تیراہ اور تیسرے نمبر پر ضلع کرم آتا ہے تاہم بہترین پیداوار تیراہ میں ہوتی ہے۔بھنگ کی کاشت کے کل رقبے اور چرس کی سالانہ پیدوار پر مبنی یہ رپورٹ دسمبر 2021ء میں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کارپوریشن (کے پی ایزمک) کو جمع کرا ئی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے تین اضلاع خیبر کی وادی تیراہ،اورکزئی اور کرم میں 295سکوئر کلو میٹر یعنی72ہزارایکڑ اراضی پر کاشت ہونے والی بھنگ سے سالانہ3ہزار 500ٹن یعنی 35لاکھ کلوگرام چرس پیدا ہوتی ہے جس کی مالیت 600ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں 109سکوئر کلومیٹر، کرم میں 46سکوئر کلومیٹر اور اورکزئی میں 140سکوئر کلومیٹر رقبہ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے۔
ایک جانب جہاں بھنگ کی تھوڑی سی مقدار اگرادویات میں استعمال ہوتی ہے تو دوسری جانب اس کا زیادہ ترحصہ چرس کی تیاری، سمگلنگ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا بھنگ کو قانونی شکل دینے کا اقدام
4دسمبر2025ء کو بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے زیر اہتمام ایک میٹنگ منعقد ہوئی تھی جس کی صدارت وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فخر جہاں نے کی اجلاس میں وزیر صحت خلیق الرحمن، وزیر قانون آفتاب عالم، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبد الحلیم، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر بلال راو، ایڈوکیٹ جنرل، محکمہ صحت، پشاور یونیورسٹی، خیبر پختونخوا سرمایہ کاری بورڈ، محکمہ داخلہ، محکمہ زراعت، پی سی ایس آئی آر اور خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
اجلاس کے منٹس کے مطابق ایجنڈا آئٹم میں لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے ریٹ کا تعین کرنا، تیراہ، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کاشت کرنے والے زمینداروں کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹریشن، بھنگ ماڈل، بھنگ کاشت کرنے والے علاقوں کی منظوری، کاشت کیلئے سالانہ کوٹہ، بھنگ رولز میں ترامیم شامل تھے۔ کمیٹی نے تمام تجاویزکیساتھ اصولی اتفاق کرتے ہوئے پہلے اور دوسرے مرحلے میں بھنگ کی کاشت کرنے والے خواہشمند حضرات کیلئے لائسنس کے اجرا ء پر بھی رضامندی کا اظہار کیاتھا۔
اس اجلاس میں 17رکنی ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لانے کی بھی منظوری دی گئی تھی جس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ، ڈپٹی کمشنر خیبر، ڈپٹی کمشنر کرم، ڈپٹی کمشنر اورکزئی،محکمہ قانون، فارماسیوٹیکل کمپنی، ایڈوکیٹ جنرل دفتر اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل کئے گئے تھے۔
ذیلی کمیٹی کو ٹاسک حوالے کیا گیا تھا کہ صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے وہ بھنگ کی کاشت کرنے والوں کیلئے لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کا تعین کرکے سفارشات مرتب کرے گی۔ بھنگ کی کاشت کیلئے تمام تحریری کام مکمل کرے گی اور دوسرے مرحلے میں بھنگ کی کاشت کرنے والے افراد کو لائسنس کے اجراء کے حوالے سے سفارشات تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔