وزیر دفاع خواجہ آصف ایک روزہ سرکاری دورے پر مراکش پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنا اور باہمی روابط کو نئی جہت دینا ہے۔ دورے کے دوران پاک مراکش دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، جسے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف مراکش کے وزیر مملکت برائے دفاعی انتظامیہ عبداللطیف لودیعی سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دو طرفہ دفاعی تعاون اور مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیردفاع وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کی قیادت بھی کریں گے۔
پاک مراکش دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے تحت مستقل دفاعی روابط کے قیام کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور تعاون کو مؤثر بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں دفاع اور سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں مستقبل کے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جن میں عسکری تربیت، مشترکہ مشقیں، تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ، استعداد کار میں اضافہ اور دیگر مشترکہ اقدامات شامل ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کریں گے۔