نادرا نے اہم رکن قومی اسمبلی کا شناختی کارڈ منسوخ کردیا، بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بند

نادرا  نے اہم رکن قومی اسمبلی کا شناختی کارڈ منسوخ کردیا، بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بند

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے انکشاف کیا ہے کہ نادرا نے ان کا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

نور عالم خان نے یہ معاملہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اٹھایا، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ان سے تحریری درخواست جمع کرانے کی ہدایت کی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ نادرا کی جانب سے ان کا شناختی کارڈ منسوخ کیے جانے کے بعد ان کے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کی جانب سے نادرا کو ایک خط لکھا گیا، جس کے بعد نادرا نے ان کا شناختی کارڈ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نور عالم خان کے مطابق اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے بھی ان کے تمام مالی معاملات بند کر دیے۔

جے یو آئی (ف) کے ایم این اے نے مزید کہا کہ یہ تمام کارروائی ایک ایسے گھر اور اس کے بل کے مسئلے پر کی گئی، جو دراصل ان کا تھا ہی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نادرا نے ان کا شناختی کارڈ وقتی طور پر بلاک نہیں بلکہ مستقل طور پر منسوخ کیا ہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی اور سرکاری امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ایس این جی پی ایل کی درخواست پر نادرا نے یہ اقدام اٹھایا، حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نادراکا شہریوں کیلئے بڑا اقدام، ایک اور اہم سہولت متعارف کروا دی

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اسی اجلاس میں نادرا ترمیمی بل 2025ء سمیت تین اہم بل بھی پیش کیے گئے۔ منگل کو ہونے والے اجلاس میں شرمیلا فاروقی نے ایوان سے نادرا ترمیمی بل 2025ء پیش کرنے کی اجازت طلب کی، جس پر اسپیکر کی منظوری کے بعد بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ شرمیلا فاروقی نے بتایا کہ یہ بل سینئر سٹیزنز کے شناختی کارڈ کے دوبارہ اجراء سے متعلق ہے۔

اجلاس کے دوران سحر کامران نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد میں بیٹریوں کے انتظام اور انہیں دوبارہ کارآمد بنانے سے متعلق بل 2025ء پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شذرہ منصب علی نے کہا کہ اس معاملے پر پہلے سے ایک ورکنگ گروپ کام کر رہا ہے اور بل میں شامل نکات اسی عمل کا حصہ ہیں۔ سحر کامران نے بل کو گرین اکانومی کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا، جس کے بعد اجازت ملنے پر بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔

اسی اجلاس میں طاہر اقبال نے کوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل پیش کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی منظوری کے بعد یہ بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لمبی قطاروں سے نجات؛ نادرا نے نئی سہولت متعارف کرادی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *