خیبرپختونخوا میں ایک ہزارکھیلوں کے میدان تعمیر کرنے میں اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد پہلے منصوبے کا نام تبدیل کیا گیا، پھر اس میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کیلئے فنانشل کلیئرنس دے دی گئی، اور اب اسی منصوبے میں کروڑوں روپے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ 2019 سے 2023 تک کا ریکارڈ بھی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے پاس موجود نہیں۔ پروانشل انسپیکشن ٹیم (پی آئی ٹی) کی جاری تحقیقات میں ابتک 23 کروڑ روپے کی کرپشن کی نشاندہی ہوچکی ہے۔
موجود دستاویزات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں ایک ہزار کھیلوں کے گراؤنڈز تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سابق صوبائی حکومت نے مالی سال 2018-19 میں ’’ایک ہزار کھیلوں کے گراؤنڈز‘‘ کے نام سے سات سالہ منصوبہ شروع کیا، جس کی مجموعی لاگت 5 ارب 50 کروڑ روپے مختص کی گئی۔
منصوبے کیلئے متعلقہ تعلیم اور تجربے والے ملازمین کی عدم تعیناتی اور ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر منصوبے کو چلانے کی وجہ سے ہر ایک مد میں بے قاعدگیاں سامنے ائی جس پر سو سے زائد اڈٹ اعتراض اگئے، اس کے علاوہ منصوبہ انتہاہی سست روی کا بھی شکار رہا، تاہم 2023 میں صوبائی حکومت اور بیوروکریسی نے فنانشل کلیئرنس جو نہیں دینی چائیے تھی دیدی اور منصوبے کا نام ” ہزار کھیلوں کے گراونڈز” سے تبدیل کرکے ” متعدد کھیلوں کے گراونڈز” رکھ دیا۔
محکمہ خزانہ نے چند سال قبل تمام محکموں کو آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے سرکلر جاری کیا تھا، جبکہ مذکورہ منصوبے کا اکاؤنٹ ’’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس‘‘ کے نام سے موجود تھا۔ اس اکاؤنٹ کو بند کرنے کے بجائے محکمہ خزانہ کے ایک جعلی خط کی بنیاد پر اکاؤنٹ کا نام تبدیل کر کے ’’اسٹرینتھنگ آف ایچ ای ڈی‘‘ رکھ دیا گیا تاکہ اس کی نشاندہی نہ ہو سکے، اور ساتھ ہی ایک نیا اکاؤنٹ بھی کھول دیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق پی ایم یو نے اسی منصوبے کے 23 کروڑ 87 لاکھ روپے مذکورہ اکاؤنٹ میں منتقل کیے، تاہم یہ رقم اصل اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی گئی۔ مختلف مدوں میں کروڑوں روپے نکالے گئے اور ہر کام کی لاگت پانچ لاکھ روپے سے کم ظاہر کی گئی، کیونکہ پانچ لاکھ روپے سے زائد مالیت کے کام کے لیے ٹینڈر لازمی ہوتا ہے۔
اخراجات کے لیے جن فرموں کی دستاویزات دکھائی گئیں، ان میں سے مالکان کے نام تک موجود نہیں۔ پی آئی ٹی نے ان فرموں کے مالکان کو پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم متعلقہ حکام کسی قسم کی معلومات فراہم نہ کر سکے۔
منصوبے کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 298 ذیلی منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کی مجموعی لاگت 4 ارب 30 کروڑ روپے ہے، لیکن سات سال گزر جانے کے باوجود صرف 155 چھوٹے منصوبے مکمل کیے جا سکے۔ ذرائع کے مطابق 89 کروڑ روپے مالیت کے 58 منصوبے ایسے ہیں جن کی منظوری تو دی گئی، مگر یا تو ٹھیکیدار کے ساتھ تنازع ہے یا زمین کے مالکان کے مسائل ہیں، جس کے باعث ان منصوبوں کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
اب تک منصوبے کے لیے 2 ارب 17 کروڑ 79 لاکھ 53 ہزار روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 2 ارب 15 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ پی ایم یو کی تین گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مد میں 60 لاکھ روپے مختص تھے، مگر گزشتہ دو سالوں کے دوران 52 فیول کارڈز جاری کیے گئے، وہ بھی غیر متعلقہ افراد کو، اور اسی مد میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ گاڑیوں اور دیگر مرمت کی مد میں 50 لاکھ روپے مختص تھے، تاہم اس مد میں 1 کروڑ 31 لاکھ 27 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے پی ائی ٹی میں انکوائری جاری ہونے کی وجہ سے موقف دینے سے معذرت کی تاہم رابطہ کرنے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب فائز نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے، جبکہ پی آئی ٹی کی انکوائری جاری ہے، جس میں تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔