قومی زبان کے معاملے پر دوہرا معیار؟ سوشل میڈیا صارفین کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید

قومی زبان کے معاملے پر دوہرا معیار؟ سوشل میڈیا صارفین کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو قومی زبان اردو کے معاملے پر مبینہ دوہرے معیار کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

حالیہ دنوں میں پشاور میں ایک جامعہ کی تقریب کے دوران انگریزی زبان کے استعمال پر تنقید کرنے والے وزیراعلیٰ خود کراچی میں انگریزی زبان میں تاثرات تحریر کرتے نظر آئے، جس پر صارفین نے ان کے قول و فعل میں تضاد کی نشاندہی کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کراچی کے دورے کے دوران مزار قائد پر حاضری کے لیے پہنچے، جہاں انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات انگریزی زبان میں قلم بند کیے۔ مزار قائد پر لکھی گئی تحریر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر انگریزی زبان خود وزیراعلیٰ کے لیے قابل قبول ہے تو دیگر افراد، بالخصوص تعلیمی اداروں کے سربراہان کو سرعام تنقید کا نشانہ بنانا دوہرے معیار کے مترادف ہے۔ بعض صارفین نے اس عمل کو قول و فعل میں واضح تضاد قرار دیتے ہوئے اسے محض نمائشی اور مصنوعی قومی بیانیہ بھی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی بھی دراصل ایک جنگ ہے،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر کیوں اڑ گئی ہے،سہیل وڑائچ

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی زبان اردو کے فروغ کے لیے صرف بیانات اور ہدایات کافی نہیں ہوتیں بلکہ عملی طور پر بھی اس کی مثال قائم کرنا ضروری ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومتی عہدیدار اگر خود اردو کے استعمال کو ترجیح دیں تو اس سے قومی زبان کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پشاور میں شہید بینظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وائس چانسلر کی جانب سے انگریزی زبان میں کی گئی تقریر پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اس لیے سرکاری اور تعلیمی تقریبات میں اردو زبان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس موقع پر واضح ہدایت بھی دی تھی کہ صوبے کی تمام جامعات میں تقاریب اردو زبان میں منعقد کی جائیں گی اور ہدایت کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ تاہم کراچی میں انگریزی زبان میں تاثرات تحریر کرنے کے واقعے کے بعد ان کی اس پالیسی اور بیانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی بھی دراصل ایک جنگ ہے،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر کیوں اڑ گئی ہے،سہیل وڑائچ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *